شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 82
حملہ محراب پر ہوا۔اس موقع پر شہید مرحوم پہلے ہال سے باہر نکل گئے۔پھر تھوڑی دیر بعد اندر واپس آئے اور دروازے کے پاس بیٹھ گئے ، اور دوسرا بھائی بھی پاس آ گیا۔گھر فون پر بات کی اور دوستوں سے بھی بات کی۔اتنے میں مینار کی طرف سے ایک دروازے سے ایک دہشت گرداندر داخل ہوا اور فائرنگ کر دی جس سے کافی لوگ شہید ہو گئے۔شہید مرحوم اس وقت گولی لگنے سے شدید زخمی تھے۔ان کا بھائی کہتا ہے کہ میں نے آواز دی لیکن خاموش رہے۔میں نے دیکھا کہ ٹانگ سے کافی خون بہہ رہا ہے اور مجھے کہا کہ میری ٹانگ سیدھی کرو۔میں نے اپنی قمیض اتار کر پٹی باندھنے کی کوشش کی لیکن نہیں باندھ سکا کیونکہ کہتے تھے جہاں میں ہاتھ لگا تا تھا وہیں سے گوشت لٹک جاتا تھا۔قریباً آدھا گھنٹہ اسی کیفیت میں رہے۔اور اسی عرصے میں پھر تھوڑی دیر بعد شہادت کا رتبہ پایا۔بھائی کہتا ہے کہ میں ساتھ بیٹھا تھا بڑی ہمت دکھائی انہوں نے۔ایسی حالت میں بھی کوئی چیخ و پکار نہیں تھی۔بلکہ آنکھوں سے لگ رہا تھا خوش ہے کہ چلو میرا بھائی تو بچ گیا اور بالکل سلامت بیٹھا ہے۔آپ کے ایک دوست نے ایک کارکن نے لکھا ہے کہ خدام الاحمدیہ میں ایک حزب کے سائق تھے۔کچھ ماہ سے نہایت جذ بہ اور اخلاص کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ایک مرتبہ خاکسار رات ساڑھے گیارہ بجے گھر گیا کہ حقیقۃ الوحی کے پرچے پر کروانے تھے۔وہ اسی وقت موٹر سائیکل لے کر نکل کھڑے ہوئے اور گھروں کا دورہ کیا۔اس کے علاوہ بھی ان کے پاس گاڑی ہوتی تو مجلس کے کاموں کے لئے پیش کرتے۔غرض نہایت شریف، سادہ اور کبھی نہ نہ کرنے والے وجود تھے۔ان کے ایک دوست نے لکھا کہ مجھے خواب میں شامل منیر ملا میں اس سے کہتا ہوں کہ تم کدھر ہو۔تو وہ مجھے جواب دیتا ہے، ( شہادت کے بعد کا ذکر ہے ) کہ بھائی میں تو ادھر ہوں تم کدھر ہو۔پھر وہ ساتھ ہی مجھے کہتا ہے کہ بھائی میں ادھر بہت خوش ہوں تم بھی آجاؤ۔مجھے خود بھی وہ خوش محسوس ہوتا ہے۔پھر یہ منظر ختم ہو جاتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ اس نوجوان کے بھی درجات بلند فرمائے۔یہ وہ نوجوان ہیں، جو اپنے پیچھے رہنے والے نو جوانوں کو اپنا عہد پورا کرنے کی یاد دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہم تو قربان ہو گئے ہم اپنے عہد سے پیچھے نہ ہٹنا۔82