شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 72
برابری کا سلوک کیا۔ایک نو مبائع بچی کو بھی، جو گھر کا کام کرنے کے لئے آتی تھی ، تبلیغ کرتے رہے، اس کی بیعت کی، اس کو پالا ، اور اس کی شادی کے بھی انتظامات کئے تھے۔اور بڑی پیار کرنے والی طبیعت تھی۔دعا گو ، سادہ متقی ، ملنسار اور اطاعت گزار شخص تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم محمد رشید ہاشمی صاحب شہید مکرم محمد رشید ہاشمی صاحب شہید ابن مکرم محمدمنیر شاہ ہاشمی صاحب۔شہید مکرم شاہ دین ہاشمی صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑپوتے تھے اور شہید کے والد مکرم محمد منیر ہاشمی صاحب ایبٹ آباد میں جنرل پوسٹ ماسٹر تھے۔1974ء کے فسادات میں آپ کے گھر کو مخالفین نے جلا دیا۔ریڈیو پاکستان پشاور سٹوڈیو میں ملازمت کرتے تھے، خبریں پڑھتے تھے۔نوائے وقت اخبار میں کالم نویسی بھی کرتے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 78 سال تھی۔مجلس انصار اللہ کے بڑے فعال کارکن تھے۔16 سال تک صدر حلقہ بھی رہے۔موصی تھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔اور آپ کی شہادت بھی دارالذکر لاہور میں ہوئی ہے۔تین گولیاں آپ کو لگی تھیں۔بہت ہی پیار کرنے والے تھے، جماعت کا دردر کھنے والے تھے۔خدمت دین کا شوق رہتا تھا۔اور بیوی بچوں کو بھی یہ تلقین کرتے تھے۔صدر شمالی چھاؤنی کو جمعہ کے روز فون کیا کہ میرے پاس جماعت کی ایک امانت ہے۔یہ رقم قومی بچت سے پرافٹ (Protit) ملا تھا وہ آ کر لیں جائیں۔شہادت کے وقت بھی یہ رقم ان کی جیب میں موجود تھی اور گولی لگنے سے اس رقم میں بھی ، پیسوں میں بھی نوٹوں پر سوراخ ہوئے ہوئے تھے۔ہر کام میں وقت کی پابندی کا بہت خیال تھا، لاہور میں ایک وہاں کے صدر صاحب نماز سینٹر بنانا چاہتے تھے۔لیکن نقشے کی اجازت نہیں ملتی تھی۔انہوں نے راتوں رات خود ہی پنسل سے نقشہ بنایا اور اس کی منظوری لے لی۔غیر احمدی بھی ان کی بہت عزت کرتے تھے۔سارے محلے والے تعزیت کے لئے گھر آئے۔72