شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 48
- کسی اور کے پاس نہیں جانا، میرے سے لیا کرو۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں اشرف صاحب کا رو یه دو ماہ سے مختلف ہو رہا تھا۔جلدی جلدی تمام کام مکمل کروار ہے تھے۔یو۔کے والے گھر کی دیوار اونچی کروائی اور مجھے نصیحت کی کہ اب تم ایک ملازمہ رکھ لو اور یہاں سے ایک لڑکی کے ویزے کا کام مکمل کروایا کہ اس کو ساتھ لے کر جانا ہے۔شہادت سے پندرہ روز قبل مجھے مختلف کاموں کی انجام دہی کے لئے وصیت کی تو میں نے کہا کہ میں یہ نہیں کر پاؤں گی۔تو جواباً کہا کہ نہیں تم اچھی طرح سنبھال لوگی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔مکرم کیپٹن (ریٹائرڈ) مرزا نعیم الدین صاحب شہید مکرم کیپٹن (ریٹائرڈ) مرزا نعیم الدین صاحب شہید ابن مکرم مرز اسراج دین صاحب۔یہ شہید فتح پور ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔خاندان میں سب سے پہلے ان کے دادا نے بیعت کی تھی۔مرزا محمد عبد اللہ صاحب درویش قادیان آپ کے تایا تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 56 سال تھی اور دارالذکر میں شہید ہوئے۔شہید مرحوم کی اہلیہ نے ان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کے روز بیٹی کے گھر کھانا کھاتے تھے۔زخمی حالت میں کوئی دو بجے کے قریب بیٹی کو گھر فون کیا کہ والدہ کا دھیان رکھنا۔ان کی اہلیہ نے کہا پھر میں نے فون پکڑا تو کہا کہ ٹھیک ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں جی ٹھیک ہوں۔کہا کہ اللہ حافظ۔بیٹے عامر کا پتہ کرواتے رہے۔دو افراد کو فوجی نقطۂ نظر سے جان بچانے کے طریقے بتائے جس سے بفضلہ تعالیٰ وہ دونوں محفوظ رہے۔خود یہ محراب کے قریب دیوار کے ساتھ بیٹھی ہوئی حالت میں شہید ہو گئے۔ان کے پیٹ میں گولی لگی تھی۔اس سانحے میں ان کا بیٹا عامرنعیم بھی زخمی ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے شفائے کاملہ عطا فرمائے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ہمارے دونوں خاندانوں میں ہماری ازدواجی زندگی ایک مثال تھی۔پانچ بیٹیاں پیدا ہو ئیں اور ہر بیٹی کی پیدائش پر یہ کہتے تھے کہ رحمت آئی اور ہر بیٹی کی پیدائش کے بعد ان کی ترقی ہوئی۔یہ ان لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو بیٹیاں پیدا ہونے پر 48