شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 46

کے نگران ، بہت اخلاص سے دن رات محنت کرنے والے تھے اور بہت بہادر انسان تھے۔جب کوئٹہ میں بسلسلہ ملازمت تعینات تھے تو ضیاء الحق اس وقت صدر پاکستان تھے۔ان کی آمد پر ریلوے آفیسر ہونے کی وجہ سے ان کو آگے سیٹ ملی۔جب وہاں جو فنکشن تھا اس میں آگے بیٹھے ہوئے تھے ، پہلی لائن پر ، اور وہاں ان دنوں کلمے کی مہم بھی چل رہی تھی۔مطلب ہے کہ احمدیوں کو منع کیا تھا، نیا نیا آرڈینینس آیا تھا انہوں نے کلمے کا بیج لگایا ہوا تھا اور آ کے آگے بیٹھ گئے۔تو گورنر نے ان کو پیغام بھیجا کہ آپ یا تو پیچھے چلے جائیں یا کملے کا بیج اتار دیں۔تو انہوں نے جواب دیا کہ نہ تو میں کلمے کا بیج اتارسکتا ہوں اور نہ ڈر کی وجہ سے پیچھے جاسکتا ہوں۔آپ اگر چاہیں تو مجھے بے شک گھر بھیج دیں یعنی نوکری سے فارغ کر دیں۔بہر حال ڈٹے رہے۔اس طرح کے ابتلاء کے دور میں لاہور کے قائد علاقہ رہے ہیں اور حالات کے پیش نظر احمدی نوجوانوں کو ڈیوٹی کے لئے ہمیشہ انہوں نے تیار کیا۔خود بھی لمبے عرصے تک گیٹ پر ڈیوٹی دیتے رہے۔بہت مدد کرنے والے اور خدمتِ خلق کرنے والے انسان تھے۔شہید مرحوم کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ خلافت اور جماعت سے عشق تھا۔جماعتی کام کو ترجیح دیتے تھے۔زندگی وقف کرنے کی بہت خوشی تھی۔ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی وقف کی تھی اور صحت کا خیال اس لئے رکھتے تھے کہ میں نے وقف کیا ہوا ہے اور جماعت کے کام آسکوں۔باجماعت نماز کے پابند اور دیانتدار افسر تھے اس لئے ان کی ہر جگہ بہت عزت کی جاتی تھی۔جب یہ تعلیم حاصل کر رہے تھے تو جماعتی طور پر ان کا خرچ اٹھایا جاتا تھا۔اس لئے با قاعدگی سے کفالت یتامیٰ میں چندہ ادا کیا کرتے تھے۔یتامی کی طرف سے ان کا خرچ اٹھایا جاتا تھا۔اس کے علاوہ بھی دیگر چندہ جات میں بڑا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔شہید مرحوم کی ایک عزیزہ نے چند دن پہلے خواب میں دیکھا کہ آواز آئی ” شہیدوں کو چننے کے لئے تیار ہو جاؤ“۔خود میں نے بھی ان کو دیکھا ہے بڑی عاجزی سے کام کرنے والے تھے اور مرکزی کارکنان ، جس لیول کا بھی کارکن ہو، اس کی بڑی عزت کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔46