شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 45
نیک ادا پسند آتی ہے۔ان کی یہ ادا پسند آئی کہ شہادت کا رتبہ تو دیا لیکن مسیح محمدی کے ایک کارکن کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے دیا اور عبادت کرتے ہوئے دیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم محمد اسلم بھروانہ صاحب شہید پھر مکرم محمد اسلم بھروانہ صاحب شہید ہیں جو مکرم مہر راجہ خان بھروانہ صاحب کے بیٹے تھے۔شہید مرحوم کے والد صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کے دور میں بیعت کی۔جھنگ کے رہنے والے تھے۔ٹیکسلا یونیورسٹی سے مکینیکل انجنیئر نگ کی اور 1981 ء سے پاکستان ریلوے میں ملازمت اختیار کی۔مجلس انصار اللہ کے بڑے اچھے رکن تھے، جمعہ کے روز آپ عام طور پر مسجد میں کھڑے ہو کر اعلانات کیا کرتے تھے۔اس وقت بھی خطبہ سے پہلے اعلان کر کے فارغ ہوئے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 59 سال تھی۔ان کی شہادت بھی دارالذکر میں ہوئی ہے۔نسیم مہدی صاحب اور پروازی صاحب کے یہ برادر نسبتی تھے، بہنوئی تھے اور مولوی احمد خان صاحب ان کے خسر تھے۔پاکستان ریلوے ملینیکل انجنیئر نگ میں چیف انجنیئر تھے اور بیسویں گریڈ کے افسر تھے اور اکیسویں گریڈ کے لئے فائل جمع کروائی ہوئی تھی اور چند روز میں ان کی ترقی ہونے والی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم رتبہ ان کو عطا فرمایا ہے جس کے سامنے ان گریڈوں اور ان ترقیوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ان کے بارے میں ڈیوٹی پر موجود ایک خادم نے بتایا کہ مکرم اسلم بھر روانہ صاحب کو تہہ خانہ میں بھجوانے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں یہیں رہوں گا۔آپ دوسروں کو تہہ خانے میں لے جائیں اور خود ہال سے باہر صحن میں نکلے تا کہ دوسروں کی خبر گیری کرسکیں۔جب دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے دہشتگرد نے ان پر فائرنگ کر دی۔شہید مرحوم اہم جماعتی عہدوں پر فائز رہے۔سابق قائد علاقہ راولپنڈی اور لاہور کے علاوہ سیکرٹری تربیت نومبائعین ،سیکرٹری جائیداد لاہور، لاہور کا ہانڈو گھر میں قبرستان ہے اس 45