شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 32
ہر ابتلاء کے بعد اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانیوں کا اور اس کی رضا کے حصول کا ادراک اور بڑھتا ہے۔بندے نہ تو ہمارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں یہ کچھ دے سکتے ہیں۔بے شک دنیا میں آج کل دہشتگردی بہت زیادہ ہے۔پاکستان میں اس کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔لیکن احمدیوں کے خلاف دہشتگردی کو قانون کا تحفظ حاصل ہے۔اس لئے جوان کے دل میں آتا ہے وہ کرتے ہیں۔مونگ رسول کا واقعہ ہوا، وہاں بھی دہشتگردی ہوئی ، وہاں کے جو دہشتگرد تھے پکڑے گئے تھے ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ کیا ان کو سزا دی گئی ؟ وہ پاکستانی گلیوں میں آج بھی آزادی کے ساتھ پھر رہے ہیں۔پس ان سے تو کوئی احمدی کسی قسم کی کوئی توقع نہیں کر سکتا اور نہ کرتا ہے۔ہمارا مولیٰ تو ہمارا اللہ ہے اور اس پر ہم تو کل کرتے ہیں۔وہی ہمارا معین و مددگار ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ وہ ہمیشہ ہماری مددکر تا رہے گا اور اپنی حفاظت کے حصار میں ہمیں رکھے گا۔ان لوگوں سے آئندہ بھی کسی قسم کی خیر کی کوئی امید نہیں اور نہ کبھی ہم رکھیں گے۔اس لئے احمدیوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔اور دعاؤں کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اَللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ کی دعا بہت پڑھیں۔رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِيْ وَانْصُرْنِيْ وَارْحَمْنِی کی دعا ضرور پڑھیں۔اس کے علاوہ بھی بہت دعائیں کریں۔ثبات قدم کے لئے دعائیں کریں۔ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا ئیں ، روئیں۔ان دو مساجد میں جو ہمارے زخمی ہوئے ہیں ان کے لئے بھی دعائیں کریں۔ان زخمیوں میں سے بھی آج ایک اور ڈاکٹر عمران صاحب تھے ان کی شہادت ہوگئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون الله تعالی باقی جو زخمی ہیں ان کو شفا عطا فرمائے اور ہر احمدی کو ہر شر سے ہمیشہ بچائے۔احمدیوں نے پاکستان کے بنانے میں کردار ادا کیا تھا اور ان لوگوں سے بڑھ کر کیا تھا، جو آج دعویدار ہیں، جو آج پاکستان کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں اس لئے ملک کی بقا کے لئے بھی دعا کرنا ہمارا فرض ہے۔اور ان لوگوں کے شر سے بچنے کے لئے اور ان کے عبرتناک انجام کے لئے بھی دعا کریں جو ملک میں افراتفری اور فساد پھیلا رہے 32