شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 31

اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزا دے اور ہمیشہ حق کہنے کی توفیق دیتا رہے۔اب اس حق کہنے کے بعد کہیں مولویوں کے رد عمل سے ڈر کر پھر پرانی ڈگر پر نہ چل پڑیں۔اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک کے پریس ہیں ، حکومتیں ہیں ان کی طرف سے بیان آئے ، Statements آئیں، ہمدردی کے پیغام آئے اور مختلف حکومتوں کے نمائندے، یہاں کی حکومت کے نمائندے نے بھی انگلستان کے ممبران پارلیمنٹ نے بھی ہمدردی اور تعزیت کے پیغام بھیجے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔اور تو اور مجلس ختم نبوت کی طرف سے بھی اخبار میں خبر آئی تھی کہ بڑا غلط کام ہوا ہے اور یہ درندگی ہے اور یہ نہیں ہونی چاہئے تھی۔تو پھر وہ جو بینر ہیں جو پوسٹر ہیں جو دیواروں پر لگے ہوئے ہیں، جو سڑکوں پر لگے ہوئے ہیں حتی کے ہائی کورٹ کے جوں کے نیم پلیٹس (Name Plates) کے نیچے لگے ہوئے ہیں، جس میں احمدیوں کے خلاف گندی زبان استعمال کی گئی ہے انہیں مرتد کہا گیا ہے، انہیں واجب القتل کہا گیا ہے، وہ کس کے لگائے ہوئے ہیں؟ تم لوگ ہی تو ہو اس دنیا کو ، ان لوگوں کو ، بے عقلوں کو جوش دلانے والے، اور اب جب یہ دیکھا کہ دنیا کا رخ اس طرف آ گیا ہے تو ہم بھی ہیں تو سہی اس ظلم میں شامل، پھر دنیا کی نظر میں ہم اس ظلم میں شامل ہونے سے بچ جائیں تو یہ بیان دینے لگ گئے ہیں۔تو احمدیوں کے خلاف یہ بغض اور کینہ جو ان نام نہاد علماء کی طرف سے دکھایا جا رہا ہے۔یہی اصل وجہ ہے جو یہ ساری کارروائی ہوئی ہے۔پاکستان کے چیف جسٹس صاحب ہیں، ذراذراسی بات پر خود نوٹس لیتے ہیں۔اخباروں میں یہ بات آ جاتی ہے۔تو یہ جو اتنا بڑا ظلم ہوا ہے اور یہ جو بینر لگے ہوئے ہیں اور جو پوسٹر لگے ہوئے ہیں اس پر ان کو خیال نہیں آیا کہ خود کوئی نوٹس لیں اور یہ علماء جو لوگوں کو اُکسا رہے ہیں ، ان کے خلاف کارروائی کریں۔کیا انصاف قائم کرنے کے معیار صرف اپنی پسند پر منحصر ہیں؟ جیسا کہ میں نے کہا، ہمارا رونا اور ہمارے دکھ تو خدا تعالیٰ کے سامنے ہیں۔ان سے تو ہم نے کچھ نہیں لینا۔لیکن صرف ان کے معیاروں کی طرف میں نشاندہی کر رہا ہوں۔ہمارا تو 31