شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 29

ان کو بھی ٹانگ پر کچھ زخم آئے ہیں۔شام کے احمدی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ایسا نظارہ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔کوئی افراتفری نہیں تھی۔کوئی ہراسانی نہیں تھی۔کوئی خوف نہیں تھا۔ہر ایک آرام سے اپنے اپنے کام کر رہا تھا۔اس وقت بھی جب دشمن گولیاں چلا رہا تھا اور انتظامیہ کی طرف سے جو بھی ہدایات دی جارہی تھیں ان کے مطابق عمل ہو رہا تھا۔کہتے ہیں کہ میرے لئے تو ایک ایسی انہونی چیز تھی کہ جس کو میں نے کبھی نہیں دیکھا۔پس یہ وہ لوگ ہیں، یہ وہ مائیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت میں پیدا کی ہیں۔قربانیوں کی عظیم مثال ہیں۔اس بات کی فکر نہیں کہ میرے بچوں کا کیا حال ہے یا میرا بچہ شہید ہو گیا ہے۔پوری جماعت کے لئے یہ مائیں درد کے ساتھ دعائیں کر رہی ہیں۔پس اے احمدی ماؤں ! اس جذ بے کو اور ان نیک اور پاک جذبات کو اور ان خیالات کو کبھی مرنے نہ دینا۔جب تک یہ جذبات رہیں گے، جب تک یہ پُر عزم سوچیں رہیں گی، کوئی دشمن کبھی جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ایک احمدی نے لکھا کہ میں ربوہ سے گیا تھا۔ایک نوجوان خادم کے ساتھ مل کر لاشیں اٹھاتا رہا تو سب سے آخر میں اس نے میرے ساتھ مل کر ایک لاش اٹھائی اور ایمبولینس تک پہنچا دی ، اور اس کے بعد کہنے لگا کہ یہ میرے والد صاحب ہیں۔اور پھر یہ نہیں کہ اس ایمبولینس کے ساتھ چلا گیا بلکہ واپس مسجد میں چلا گیا اور اپنی ڈیوٹی جو اس کے سپر د تھی اس کام میں مستعد ہو گیا۔یہ ہیں مسیح محمدی کے وہ عظیم لوگ جو اپنے جذبات کو صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں۔اس طرح کے بیسیوں واقعات ہیں۔بعد میں انشاء اللہ تعالیٰ یہ جمع کر کے لکھے بھی جائیں گے۔ایک بات جو سب نے بتائی ہے جو کائن (Common) ہے، عینی شاہد جو بتاتے ہیں کہ دہشتگرد جب یہ سب کارروائی کر رہے تھے تو کوئی پینک (Panic) نہیں تھا۔جیسا کہ الہ روبی صاحب نے بھی لکھا ہے۔امیر صاحب اور مربی صاحب اور عہدیداران کی ہدایات پر جب تک یہ لوگ عہدیداران زندہ رہے سکون سے عمل کرتے 29