شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 174
ناراض ہوتی تو بڑے پیار سے مناتے ، اور جب تک میری ناراضگی دور نہیں ہو جاتی منانا نہیں چھوڑتے تھے۔شہادت کے بعد جب ان کی میت گھر لائی گئی تو ان کے چہرے پر وہی مسکراہٹ اور سکون تھا جو ہر وقت ان کے چہرے پر ہوتا تھا۔کوئی بھی مہمان ہو ہر ایک سے بہت عمدہ طریق سے ملتے کوئی بھی ہوتا۔ماں باپ کا ، بہن بھائیوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔عزیز رشتے داروں سے کبھی بھی کوئی ناراضگی نہ رکھتے تھے۔یہاں تک کہ آفس کے لوگ بھی کہتے کہ وسیم صاحب نے بھی اپنے جونیئر ز سے سخت لہجے میں بات نہیں کی۔وسیم صاحب نڈر قسم کے انسان تھے۔احمدی ہونے پر فخر تھا، گاڑی میں تفخیذ رسالے اکثر پڑے ہوتے تھے۔ان کا جو نیئر جو کہ احمدی تھا، انہیں اکثر کہتا تھا کہ وسیم صاحب! کہیں کوئی مولوی فطرت انسان دیکھ کر آپ کو نقصان نہ پہنچائے؟ تو وسیم صاحب کہتے کہ یار! شہادت کا رتبہ ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتا۔گھر میں بھی اکثر کہتے تھے کہ تبلیغ سے کبھی نہیں ڈرنا چاہئے کیونکہ ہم جیسے گناہگاروں کو ایسا اعزاز کہاں ملتا ہے ان کے جونیئر تھے اسدانہوں نے بتایا کہ وسیم صاحب اور وہ اگلی صف میں بیٹھتے تھے ، جیسے ہی فائرنگ شروع ہوئی تو سب لوگ ہال کے ایک طرف اکٹھے ہو گئے اور کسی دروازے سے باہر نکل رہے تھے۔اسد نے وسیم کو آواز دی لیکن وسیم نے کہا کہ پہلے اگلے لوگوں کو نکل جانے دو پھر میں آتا ہوں۔اسی دوران وسیم صاحب کو آٹھ گولیاں پیٹ میں لگیں اور ایک گھنٹے کے اندر شہادت ہوگئی۔مکرم ملک و سیم احمد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم ملک وسیم احمد صاحب شہیدا بن مکرم محمد اشرف صاحب (چکوال) کا۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد کا تعلق رتو چھ ضلع چکوال سے تھا،شہید مرحوم نے میٹرک تک تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی۔پھر فوج میں بطور لانس نائیک ملازمت شروع کر دی۔فوج سے ریٹائر منٹ کے بعد اسلام آباد میں ایک سکیورٹی کمپنی میں ملازمت شروع کی۔بعد ازاں 2009 ء میں مسجد دارالذکر میں سکیورٹی گارڈ کی ملازمت شروع کر دی۔ان کے 174