شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 175
خسر مکرم عبدالرزاق صاحب نظارت علیاء صدر انجمن احمد یہ پاکستان ربوہ کے ڈرائیور تھے۔شہادت کے وقت وسیم احمد صاحب کی عمر 54 سال تھی۔اور مسجد دارالذکر میں ڈیوٹی دینے کے دوران جام شہادت نوش فرمایا۔سانحے کے روز وسیم صاحب مسجد دارالذکر کے مین گیٹ پر ڈیوٹی پر تھے۔حملہ آوروں نے دور ہی سے فائرنگ شروع کر دی۔جس سے سانحے کے آغاز میں ہی ان کی شہادت ہو گئی۔شہید مرحوم کی دوشادیاں ہوئی تھیں۔1983ء میں پہلی بیوی کی وفات ہو گئی پھر 1990ء میں عبد الرزاق صاحب جن کا میں نے ذکر کیا ہے ان کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ان کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ بہت ہی اچھے انسان تھے۔معاشرے میں بہت اچھا مقام تھا۔ہر ایک کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ہر رشتے کے لحاظ سے بہت اچھے انسان تھے۔خاص طور پر یتیم بچے اور بچیوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔چاہے وہ رشتے دار، غیر رشتے دار غیر از جماعت یا احمدی ہوتا۔جماعتی خدمات کا بہت جوش اور جذبہ تھا۔اسی لئے جب بھی لاہور سے چھٹی پر گھر آتے تو بتاتے کہ میں ادھر بہت خوش ہوں۔مسجد میں آنے والا ہر احمدی چاہے وہ چھوٹا ہے یا بڑا ہر ایک بہت عزت سے ملتا ہے۔شہید مرحوم کے بچوں نے بتایا کہ ہمارے ابو بہت اچھے انسان تھے۔ہمارے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا۔ہر ایک خواہش کا احترام کرتے تھے۔بیٹی نے بتایا کہ خاص طور پر میری ہر خواہش پوری کرتے تھے۔بچوں کی تعلیم کے بارہ میں بہت جذ بہ اور شوق تھا۔بیٹی نے بتایا کہ مجھے کہتے تھے کہ میں تمہیں تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ بھیج دوں گا۔ماحول اچھا ہے۔اور وہیں جماعت کی خدمت کرنا۔چاہے مجھے تمہارے ساتھ ربوہ میں ہی کیوں نہ رہنا پڑے۔بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والے باپ تھے۔شہید مرحوم کی اہلیہ نے مزید بتایا کہ شہادت سے کچھ روز قبل فون کر کے مجھے بتایا کہ میں ڈیوٹی پر کھڑا تھا، صدر صاحب حلقہ مسجد میں تشریف لائے۔میرے پاس سے گزرے تو میں نے کہا صدر صاحب! میری وردی پرانی ہو گئی ہے اگر مجھے نئی وردی لے دیں تو ہر ایک آنے والے کو اچھا محسوس ہو گا۔لہذا صدر صاحب نے نئی وردی لے دی۔شہادت والے روز سانحہ سے قبل فون کر کے بتایا کہ 175