شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 3

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلِئِكَةِ إِنِّى خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ طِيْنِ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ - فَسَجَدَ الْمَلَئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُوْنَ إِلَّا إِبْلِيسَ - (75-72:0) اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا یقیناً میں مٹی سے بشر پیدا کرنے والا ہوں۔پس جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اس میں اپنی روح میں سے کچھ پھونک دوں تو اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑو۔اس پر سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں۔اس نے استکبار کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں سے۔ابتدائے عالم سے ہی شیطان اور انسان کی جنگ شروع ہے اور مذہبی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر پڑنے کے ساتھ ہی شیطان نے جنگ شروع کر دی تھی۔شدت سے انسانوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔اور پھر جو بھی انبیاء کا زمانہ آیا ہر زمانے میں یہ تاریخ دہرائی جاتی رہی ، اور دو ہرائی جارہی ہے۔انبیاء جب آتے ہیں تو آ کر انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والے راستے دکھاتے ہیں اور شیطان ان میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پہلے بھی کرتا رہا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔مختلف طریقوں، حیلوں بہانوں ، لالچوں اور خوف کے ذریعے سے ڈراتا ہے۔گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔قرآنِ کریم میں بے شمار جگہ اس بات کا ذکر آیا ہے۔انسان اور آدم کی تخلیق کے ساتھ ہی شیطان نے اپنے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیئے۔قرآنِ کریم میں سورۃ فاتحہ سے لے کر سورۃ الناس تک شیطان کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کے حملوں سے ہوشیار کیا ہے اور بچنے کا حکم دیا ہے اور دعا بھی سکھائی ہے کہ اے اللہ ! ہمیں 3