شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 4

شیطان لعین کے حملوں سے بچا اور ہمیں ہر دم اپنی پناہ میں رکھ۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اپنا محبوب اور قریبی ہونے کا اعلان اس کی پیدائش کے اعلان کے ساتھ کیا اور فرشتوں کو اس کی کامل فرمانبرداری اور اطاعت کا حکم دیا۔تو شیطان نے بڑی رعونت اور تکبر سے کام لیتے ہوئے کہا، میں اس انسان کو سجدہ کروں جو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے؟ جبکہ میں تو اپنے اندر ناری صفات رکھتا ہوں ، آگے آیات میں اس کا ذکر ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے جب بشر پیدا کیا اور اس میں وہ صلاحیتیں رکھیں جن سے وہ خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو کر قرب خداوندی کے انتہائی مقام تک پہنچ سکتا ہے تو فرشتے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی خدمت پر مامور ہوئے۔پس جب اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء بھیجتا ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوتے ہیں اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے الہام ، وحی اور روح القدس سے حصہ پانے والے ہوتے ہیں تو تمام فرشتوں کا نظام ان کی تائید میں کھڑا ہو جاتا ہے، یا اس نبی کی تائید میں کھڑا ہو جاتا ہے۔اور وہ نتائج اس کے کام میں پیدا ہوتے ہیں جو اس کے مقصد کو جس مقصد کے لئے وہ آیا ہوتا ہے ترقی کی طرف لے جاتے چلے جاتے ہیں۔ایک تقدیر خاص اللہ تعالیٰ کی جاری ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بعض جگہ بشر کہہ کر اور بعض جگہ آدم کے الفاظ استعمال کر کے اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔تو تمام عالم اور دوسری مخلوق جو ہے اس کی خدمت پر لگا دی۔جب ایک بشر اللہ تعالیٰ کے مقام قرب کا درجہ حاصل کر لیتا ہے اور نبوت کے مقام پر پہنچ کر اپنے وقت کا آدم بن جاتا ہے تو اس کے ساتھ کس قد ر خدا تعالیٰ کی تائیدات ہوتی ہیں اس کا تصور بھی انسانی سوچ سے باہر ہے۔ہم دیکھتے ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین پر ظلم کی انتہا ہوئی اور مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے مدینہ پر کفار نے حملہ کرنے کی نیت سے فوج کشی کی اور پھر بدر کے میدان میں جنگ کا میدان جما تو کس طرح فرشتوں کے ذریعے خدا تعالیٰ نے