شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 136
سے نکال دیا۔محلے میں بھی شدید مخالفت شروع ہوگئی۔دھمکیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔جنازہ کے لئے ان کے گھر میں بہت شور شرابہ ہوا اور شہید مرحوم کے خالو جو شدید مخالف ہیں، انہوں نے اور دوسرے رشتے داروں نے مل کر کہا کہ جنازہ یہیں پڑھیں گے۔اس وقت شہید کی خالہ کھڑی ہو گئیں اور بڑی سختی سے اور بڑی جرات کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا : نہیں، اس بچے نے فون کیا تھا کہ مجھے ربوہ لے کر جانا۔ان کی خواہش کے مطابق ان کو ہم ربوہ ہی لے کر جائیں گے۔شہید مرحوم کے والد نے تا حال بیعت نہیں کی۔پہلے تو ان کا رویہ سخت تھا مگر اب نسبتا نرم ہے۔شہید مرحوم کی والدہ نے شہادت سے پہلے خواب میں مجھے دیکھا کہ میں ان کے گھر گیا ہوں۔ان کی کزن نے خواب میں دیکھا کہ پانچوں خلفاء کی تصاویر لگی ہیں اور ایک راستہ بنا ہوا ہے جس پر لکھا ہوا ہے This is the right way۔جیسا کہ میں نے بتایا شہید ایم بی بی ایس کر رہے تھے اور پہلے سال کے طالب علم تھے۔پڑھائی کا بڑا شوق تھا۔بزرگوں کی خدمت کا بڑا شوق تھا۔ان کی خواہش تھی کہ عملی زندگی میں جب قدم رکھوں تو بے سہارا لوگوں کے لئے اپنی نانی کے نام پر ایک سعیدہ اولڈ ہاؤس بناؤں گا۔ابھی بھی جیسا کہ میں نے کہا ان کے خاندان میں اور محلے میں ان لوگوں کی بڑی سخت مخالفت ہے اور والدہ نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں ثبات قدم عطا فرمائے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔اتنی مخالفت ہے کہ جو جماعتی وفد ملنے گیا، جو احمدی لوگ تعزیت کرنے گئے ہیں وہ ان کے گھر بھی نہیں جا سکے تھے۔شہید مرحوم نے باوجود نو مبائع ہونے کے جو استقامت دکھائی ہے یقینا یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص تعلق کی وجہ سے تھی کہ انہوں نے جب مسیح موعود کو پہچانا اور ان کو آپ کا سلام پہنچایا تو اس کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔136