شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 40
جنت کی ضمانت تو شہادت سے ملتی ہے۔اہلیہ محترمہ کہتی ہیں کہ شہادت سے قبل شہید مرحوم کا فون آیا کہ میرے سر اور ٹانگ پر چوٹ آئی ہے اور بلند آواز سے کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔خدام نے ان کو نیچے کی طرف یعنی basement میں جانے کے لئے کہا تو انہوں نے انکار کر دیا۔اور جب فائرنگ شروع ہوئی ہے تو کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر لوگوں کو کہا کہ بیٹھ جائیں اور درود شریف پڑھیں اور دعائیں کریں۔اپنا فون ان کے پاس نہیں تھا، ایک خادم سے فون لیا گھر بھی فون کیا، پولیس کو بھی فون کیا۔پولیس نے جواب دیا کہ ہم آگئے ہیں تو بڑے غصے سے پھر ان کو کہا کہ پھر اندر کیوں نہیں آتے؟ ایک خادم جس نے فون دیا تھا ان کے مطابق آخری آواز ان کی اس نے بینی تھی کہ اَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ نماز جمعہ پر جانے سے پہلے چندہ کی رقم مجھے پکڑائی اور کہا کہ اپنے پاس رکھ لو۔کیونکہ آج تک پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا تو میں نے کہا کہ جہاں آپ پہلے رکھتے تھے وہیں رکھ دیں۔انہوں نے کہا کہ نہیں آج تم رکھ لو کیونکہ دفتر بند ہو گا اس لئے جمع نہیں کروا سکتا۔اسی طرح ایک کیس کے بارے میں مجھے بتایا۔اہلیہ سے کہا کہ وہ آگے چلا گیا ہے، اس کی تاریخ آگے پڑگئی ہے اور یہ کیس کے پیسے ہیں، یہ اپنے پاس رکھ لو اور کیس والے فریق کو دے دینا اور اس کی فائل بھی۔اہلیہ کہتی ہیں کہ حالانکہ پہلے میرے سے کبھی آج تک انہوں نے کوئی کیس ڈسکس (Discuss) نہیں کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دو دفعہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد یا بلکہ پہلے ہی میرا اوقف قبول کریں۔حضور نے ان کو یہی فرمایا تھا کہ جہاں آپ کام کر رہے ہیں وہیں کام کریں کیونکہ اس کے ذریعہ سے احمدیت کی تبلیغ زیادہ مؤثر رنگ میں ہو رہی ہے۔لوگوں کو پتہ لگے کہ احمدی افسر کیسے ہوتے ہیں۔ان کے ایک بیٹے نے بتایا کہ میں نے ان سے کہا کہ اپنا کوئی سکیورٹی گارڈ رکھ لیں۔کہنے لگے کیا ہوگا؟ مجھے گولی مار دیں گے تو شہید ہو جاؤں گا۔40