شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 39

ان کو پتہ تھا کہ یہ انصاف پسند آدمی ہیں اور انہیں کبھی کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا تھا۔راولپنڈی میں ایک کیس کے دوران دونوں پارٹیوں میں سے ایک پارٹی جو لا ہوری احمدی ہیں ان کی خواتین تھیں۔ان کے وکیل مجیب الرحمن صاحب تھے۔اور دوسرا فریق جو تھا ، دوسری پارٹی ایک مولویوں کی پارٹی تھی۔تو کورٹ میں آکے انہوں نے پہلے ہی بتا دیا کہ میں احمدی ہوں اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو بتائیں۔جو دوسرا گروپ مولویوں کا تھا، ان کا مقدمہ احمدی پیغامیوں کے ساتھ تھا۔لیکن انہوں نے کہا کہ ہمیں قبول ہے ہم آپ سے ہی فیصلہ کروانا چاہتے ہیں۔جو پیغامی فریق تھا ان کے وکیل مجیب الرحمن صاحب احمدی تھے۔تو وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ خوف ہوتا تھا کہ کہیں آپ اپنی انصاف پسندی کا اظہار کرنے کے لئے ہمارے خلاف فیصلہ نہ کر دیں۔لیکن انہوں نے انصاف کو ہمیشہ ملحوظ رکھا اور انصاف کی بنیاد پر ہی فیصلہ کیا اور ان خواتین کے حق میں کردیا اور مولویوں کے خلاف ہوا۔ان کا علم بھی بڑا وسیع تھا۔بڑے دلیر تھے۔قوت فیصلہ بہت تھی۔ملازموں اور غریبوں سے بڑی ہمدردی کیا کرتے تھے۔درویش صفت انسان تھے۔جب بھی میں ان کو ملا ہوں جہاں تک میں نے دیکھا ہے ان کی طبیعت میں بڑی سادگی تھی۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر بھی تھے۔اس کے علاوہ شروع میں ماڈل ٹاؤن حلقہ میں زعیم اعلیٰ کے طور پر بھی خدمات رہی ہیں۔گارڈن ٹاؤن حلقہ کے صدر بھی رہے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ہمارا اور بچوں کا ہمیشہ بہت خیال رکھتے تھے۔یہ کہا کرتے تھے کہ میں تو ایک غریب سٹیشن ماسٹر کا بیٹا ہوں اور تم لوگوں کی ضروریات کا ، بچوں کا خیال مجھے اس لئے رکھنا پڑتا ہے کہ یہ اپنے آپ کو سیشن جج کے بچے سمجھتے ہیں۔وصیت کے نظام میں بھی شامل تھے۔اور جیسا کہ میں نے کہا دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔شہادت سے ایک دن قبل ان کی بہن نے لجنہ اماءاللہ کو وصایا کے حوالہ سے ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ وصیت بھی جنت کے حصول کا ذریعہ ہے اور گھر آ کر شیخ صاحب سے جب بات کی کہ کیا میں نے ٹھیک کہا ہے؟ تو انہوں نے کہا یہ ٹھیک ہے۔لیکن اپنی بہن کو کہا کہ، آپا! اصل 39