شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 168
کی جارہی تھی کہتے ہیں کہ آج میرے لئے میرے فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں۔میں اب مطمئن ہو گیا ہوں۔جو شخص خود آبدیدہ ہو کر مجھے تبلیغ کر رہا ہے، ان کی جماعت جھوٹی کیسے ہو سکتی ہے۔یہ بھی تبلیغ کرنے کا اپنا اپنا ہر ایک کا انداز ہوتا ہے اور جو دل سے نکلی ہوئی باتیں ہوتی ہیں پھر ا ثر کرتی ہیں اور پھر ڈاکٹر صاحب نے بیعت کر لی۔مربی صاحب کے والدین کے علاوہ باقی تمام رشتے دار غیر از جماعت ہیں۔آخری سانس تک ان کو بھی تبلیغ کرتے رہے۔ہر غمی اور خوشی کے موقع پر اپنے بچوں کو خاص طور پر غیر از جماعت رشتے داروں کے پاس دکھانے کی غرض سے ساتھ لے جاتے تھے، کہ دیکھو ہم میں اور ان میں کیا فرق ہے؟ ان لوگوں کے گلوں میں بدرسومات اور بدعات کا طوق ہے اور ہم خلافت کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ان کے بارے میں ایک صاحب نے مجھے خط میں لکھا کہ 2006ء میں خاکسار کو اطلاع ملی پنڈی میں ، ( پنڈی کے ہیں یہ ) کہ محمود شاد صاحب مربی سلسلہ کو بیت الحمد مری میں تعینات کیا گیا ہے۔خاکسار کو امیر صاحب ضلع راولپنڈی نے صدر حلقہ اور بیت الحمد شرقی کے علاوہ بیت الحمد مری روڈ مربی ہاؤس مری روڈ اور گیسٹ ہاؤس مری روڈ کی نگرانی بھی سونپی تھی۔تو امیر صاحب کی ہدایت آئی کہ مربی صاحب کے قیام و طعام کا بندوبست کریں۔گیسٹ ہاؤس میں طعام کا ابھی بندوبست نہیں تھا۔کھانا جو بھی پیش کیا جاتا مربی صاحب بڑے صبر و رضا کے ساتھ کھا لیتے۔مربی ہاؤس اور گیسٹ ہاؤس مری روڈ تین منزلہ ہے۔پہلے مربی ہاؤس دوسری منزل پر تھا۔جماعت نے فیصلہ کیا کہ اسے تیسری منزل پر شفٹ کر دیا جائے۔اور پہلی دو منزلیں گیسٹ ہاؤس بنائی جائیں۔تیسری منزل پر شدید گرمی ہوتی تھی۔مگر مر بی صاحب کمال صبر ورضا کے ساتھ وہاں مقیم رہے۔اور کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لائے۔خلیفہ وقت کے خطبات جمعہ بڑے اہتمام سے سنتے تھے اور احباب جماعت کو بھی بار بار سننے کی تلقین کرتے تھے۔اگر کبھی کسی جماعت میں ڈش خراب ہو گیا تو اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے جب تک ڈش درست نہ کروا لیتے تھے۔مربی صاحب نہایت ہی نرم دل اور خوش مزاج 168