شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 169 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 169

انسان تھے۔ہر ایک کے ساتھ دوستی اور پیار کا تعلق قائم کرتے۔خاندانوں کا بہت علم رکھتے تھے۔اس طرح احباب کے ساتھ ایک ذاتی تعلق بنا لیتے تھے۔خطبات جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی تحریرات اور منظوم کلام بھی بکثرت استعمال کرتے۔دشمن کے ناکام و نامراد ر ہنے اور جماعت کی کامیابی پر کامل یقین تھا۔اور بڑی تحدی سے اس کا ذکر کرتے تھے۔خطبات میں اکثر ان کی آواز بھتر اجاتی تھی۔28 مئی سے دو یا تین جمعہ پہلے عشرہ تعلیم القرآن کے سلسلے میں ماڈل ٹاؤن میں خطبہ دیا۔اور حضرت مسیح موعود کا ایک انذار پڑھ کر سنایا جس میں جماعت کے ان لوگوں کا ذکر ہے جو قرآن کو باقاعدگی سے نہیں پڑھتے اس پر جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکے اور آواز بھتر اگئی۔خلافت، جماعت اور نظام کے تقدس کے بارے میں ایک ننگی تلوار تھے۔اگر خلافت اور جماعت کے بارے میں کوئی معمولی سی بات بھی کر دیتا تو اسی وقت اس کا منہ بند کر دیتے۔اور اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک اس کو غلطی کا احساس نہ ہو جاتا۔خاکسار کے حلقے میں ( یہ وہی صاحب لکھ رہے ہیں اعظم صدیقی صاحب ) کہ خاکسار کے حلقے کی مجلس عاملہ کا اجلاس اکثر رات کو نو یا دس بجے شروع ہوتا تھا۔رات گئے سخت سردی میں سائیکل پر اجلاس میں شامل ہوتے اور اپنی ہدایت سے نوازتے۔صدیقی صاحب لکھتے ہیں کہ جب ان کی لاہور میں تبدیلی ہوئی تو بڑے خوش تھے کہ ماڈل ٹاؤن میں تبدیلی ہوگئی ہے اور ساتھ جب میں نے بتایا کہ میری بھی سرکاری ملازمت لاہور پوسٹنگ ہو گئی ہے تو مذاق سے مجھے کہنے لگے کہ صدیقی صاحب! لا ہور تک ساتھ جانا ہے یا آگے بھی ساتھ جانا ہے؟ ان کے بارہ میں ایک مربی صاحب نے مزید لکھا ہے کہ شہید ایک ہنس مکھ اور بڑی سے بڑی مصیبت اور دکھ کو خندہ پیشانی سے برداشت کر کے مسکرانے والے تھے۔دلیر اور نڈر تھے۔تبلیغ کے شیدائی تھے۔خاکسار کی تقرری جب تنزانیہ میں ہوئی تو ان کے ساتھ دار السلام سے موروگور و جارہا تھا۔راستے میں کچھ مولوی برلب سڑک نظر آئے۔محمود شاد صاحب نے گاڑی روکی اور ان کو تبلیغ کرنے لگے جبکہ شام کا وقت ہو چلا تھا اور آگے راستہ بھی خطرناک 169