شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 5
مسلمانوں کے حق میں جنگ کا پانسا پلٹا۔جماعتی سطح پر بھی ہر موقع پر یہ نظارے نظر آتے ہیں۔قومی سطح پر بھی نظارے نظر آتے ہیں۔انفرادی طور پر بھی انبیاء کے ساتھ یہ سلوک دیکھتے ہیں۔پھر جنگ حنین میں بھی یہ نظارہ دیکھا تو ہر موقع پر اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے آپ کی، مومنین کی تائید فرماتا رہا۔اور اسلام کی تائید میں اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور مسلمانوں کی ابتدائی حالت میں ہمیشہ فرشتوں کی ایک فوج ساتھ تھی۔بے شک مسلمانوں کے جانی نقصان بھی ہوئے ہیں۔مالی نقصان بھی ہوئے ہیں لیکن ابلیس کا گروہ جو ہے وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ابلیس اور شیطان کے چیلے اپنا زور لگاتے رہتے ہیں کہ کسی طرح سے، کسی بھی رنگ میں وسوسے پیدا کر کے اللہ کے بندوں کے دلوں میں شکوک ڈالتے رہیں۔انہیں قتل و غارت کے ذریعے سے خوف دلاتے رہیں۔مالی نقصان کے ذریعے سے خوف دلاتے رہیں۔چھپ کے حملوں کے ذریعے سے بھی خوف دلائیں۔ظاہری حملوں کے ذریعے سے بھی خوف دلائیں۔مخالفین کا انبیاء کو نہ ماننا اور شیطان کے قبضہ میں جانا ان کے تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے جو ان کو نیکیوں کی طرف قدم بڑھانے کی توفیق نہیں دیتا۔اور ہمیشہ ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اس نبوت کے دعویدار اور خدا تعالیٰ کی طرف بلانے والے کو ماننے والے تو غریب لوگ ہیں اور ہم بڑے لوگ ہیں۔ہم صاحب علم ہیں۔ہمیں دین کا علم زیادہ پتہ ہے اس لئے ہم کس طرح اس جماعت میں شامل ہو جائیں یا اس کی بیعت کر لیں۔آج اس زمانے میں بھی جو زمانے کے امام کو نہیں مانتے تو یہ تکبر ہی ہے جو ان کو نہ ماننے پر مجبور کر رہا ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا کہ جو بشر میں نے بنایا ہے اس کو سجدہ کرو تو یہ کوئی ظاہری سجدہ نہیں تھا۔ظاہری سجدہ تو صرف خدا تعالیٰ کو کیا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں دین پھیلانے کے لئے میں نے جس شخص کو مبعوث کیا ہے اس کے لئے کامل فرمانبرداری کرتے ہوئے اس کے مشن کو آگے بڑھانے میں اس کی مدد کرو اور شیطانوں کے منصوبوں کو کبھی کامیاب نہ ہونے دو۔ان مقاصد کو کبھی شیطان حاصل نہ کر 5