شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 156

جاتا تو ان کے چہرے پر عجیب طمانیت اور بشاشت دیکھنے کو ملتی گویا سمندر طغیانی کے بعد سکون کی حالت میں آ گیا ہو۔اسی طرح آپ جماعت اور اپنے عزیز رشتے داروں کے متعلق نہایت رقیق القلب اور ہمدرد تھے۔غلطی خواہ دوسرے کی ہو وہ خود جا کر معذرت کرتے اور پھر پہلے سے بڑھ کر اس سے ہمدردی کا سلوک کرتے۔مکرم عتیق الرحمن ظفر صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم عتیق الرحمن ظفر صاحب شہید ابن مکرم محمد شفیع صاحب کا۔شہید مرحوم سیداں والی غربی ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔1998ء سے مانا نوالہ ضلع شیخوپورہ میں مقیم تھے۔1988ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔ان کے ایک سال بعد ان کی اہلیہ نے بھی بیعت کر لی۔ذاتی کاروبار تھا، کچھ عرصہ دبئی میں بھی رہے۔2009ء کے آغاز میں پاکستان واپس آگئے۔پچھلے قریباً چھ ماہ سے مکرم امیر صاحب ضلع لاہور کے ساتھ بحیثیت ڈرائیور ڈیوٹی کر رہے تھے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 55 سال تھی مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔مسجد دارالذکر کے مین ہال میں بیٹھے تھے کہ ان کے قریب ہی گرنیڈ پھٹا۔اہلِ خانہ کو فون کر کے حملہ کی اطلاع دی۔اسی دوران ان کو گولیاں لگیں جس سے فون گر گیا اور دوبارہ بات نہ ہو سکی اور ساتھ ہی شہادت ہوگئی۔شہید مرحوم کے غیر احمدی بھائیوں کا مطالبہ تھا کہ ان کی تدفین آبائی گاؤں میں ہو، جبکہ اہلیہ نے کہا کہ شہید مرحوم چونکہ احمدی ہیں اور شہید کی خواہش چونکہ ربوہ شفٹ ہونے کی تھی لہذار بوہ میں تدفین کی جائے جس پر بھائی مان گئے اور ربوہ میں ہی تدفین ہوئی۔شہید مرحوم کی بیعت سے پہلے ان کی بیٹی نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ان کے گھر آئے ہیں اور گلاب کے پودے لگا رہے ہیں اور بعد میں میں اور میرے ابو ان پودوں کی حفاظت کرتے ہیں اور پانی دیتے ہیں۔کچھ عرصہ بعد یہ خاندان احمدی ہو گیا۔بیعت کرنے کے بعد ان کے والدین نے انہیں عاق کر کے گھر سے نکال دیا۔دیگر رشتے دار اور اہلِ محلہ 156