شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 155 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 155

بھی سوا تین بجے بات ہوئی اور صورتحال سے آگاہ کیا اور دعا کے لئے کہا۔اس کے بعد ایک اور دوست نے رابطے کی کوشش کی تو آگے سے اللہ اللہ کی آواز آ رہی تھی۔زخمی ہونے کی وجہ سے خون زیادہ بہہ جانے اور زخموں کی وجہ سے جام شہادت نوش فرما گئے۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم مثالی انسان تھے۔آپ کے اخلاق کی وجہ سے محلے میں کبھی کسی کو کھل کر مخالفت کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔جماعت کے ساتھ خصوصی لگاؤ تھا۔فراخ دل اور مہمان نواز تھے۔غریبوں کی بہت مدد کیا کرتے تھے۔جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو ایک غیر احمدی خاتون روتی ہوئی آئیں اور کہا کہ ان کے بعد میرا اور میرے بوڑھے خاوند کا کون سہارا ہوگا؟ نماز سینٹر قائم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔نماز تہجد اور باجماعت نماز کے پابند تھے۔جماعتی پروگرامز کا اہتمام خود کرتے۔مربی صاحب ضلع قصور نے بتایا کہ سانحہ کے روز سکول سے تعطیلات ہوگئی تھیں۔اگر چاہتے تو آرام سے قصور پہنچ کر جمعہ پڑھ سکتے تھے لیکن انہوں نے کسی سے ذکر کیا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں آخری جمعہ دارالذکر میں ہی پڑھ کر جاؤں کیونکہ اس کے بعد تو چھٹیاں ہو جائیں گی۔شہید مرحوم نے چند دن پہلے خواب میں دیکھا کہ میں کسی بہت ہی اچھی جگہ میں جا رہا ہوں۔بعد میں اہلیہ سے مذاقا کہا کہ اب تو دل چاہتا ہے کہ جنت میں ہی چلا جاؤں۔سال میں دو ایک مرتبہ کھانے کی دیگیں پکوا کر مستحقین میں تقسیم کیا کرتے تھے۔مربی صاحب لکھتے ہیں کہ خاکسار کو قصور میں چار سال تک بطور مربی سلسلہ کام کا موقع ملا۔مکرم مبارک علی اعوان صاحب شہید کو احمدیت کی غیرت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات یا جماعت احمدیہ پر کسی بھی قسم کے اعتراض کے جواب میں منفر دشخصیت کا مالک پایا۔آپ چونکہ ٹیچنگ(Teaching) کے پیشہ سے منسلک تھے اس لئے وہاں پر دوسرے اساتذہ کے ساتھ جماعتی موضوعات پر بحث رہتی تھی۔کسی بھی اعتراض یا سوال کے جواب کے لئے مکرم مبارک علی اعوان صاحب اُس وقت تک چین سے نہ بیٹھتے تھے جب تک اس کا کافی وشافی جواب حاصل نہ کر لیتے۔اور جب ان کو سیر حاصل بحث کے بعد جواب دے دیا 155