شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 140
میں لگی۔شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں اڑھائی گھنٹے آپریشن جاری رہا لیکن جانبر نہ ہو سکے اور جام شہادت نوش فرمایا۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ بہت دعا گو انسان تھے۔کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا۔ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے۔نہایت مہمان نواز تھے۔باوجود بڑھاپے کے ہر ایک سے کھڑے ہو کر ملتے تھے۔بچوں کو نصیحت کی کہ اپنا دستر خوان ہر ایک کے لئے کھلا رکھنا۔اتنی عمر کے باوجود سارے روزے رکھتے تھے۔1969 ء سے ہر سال اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔صرف گزشتہ دو سال سے بچوں کے اصرار کی وجہ سے اعتکاف نہیں بیٹھے۔بیت النور ماڈل ٹاؤن کے سنگ بنیاد کے وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شہید مرحوم کے والد صاحب کو بھی بنیاد میں اینٹ رکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اکثر بیٹھے بیٹھے رونے لگ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اتنی نعمتیں مجھے دی ہیں۔شہادت سے چند دن پہلے نائب امیر صاحب ضلع لاہور ان سے ملنے آئے تو ان سے کہا کہ یہ میری آپ سے آخری ملاقات ہے۔جب تک نظر ٹھیک رہی بچوں کو قرآن کریم پڑھاتے رہے۔آخری وقت تک دیگر احباب سے چندہ وصول کرنے کے لئے خود پیدل جاتے اور کہتے کہ میں اگر اس غرض سے ایک قدم بھی چلوں گا تو سوقدم کا ثواب ملے گا۔بیت النور میں حصول ثواب کی خاطر اکثر پیدل جاتے تھے۔ان کی شہادت کے بعد ان کے میز پر دعائیہ خزائن کی کتاب کھلی ملی ہے جو کہ الٹی رکھی ہوئی تھی۔ان کے اہلِ خانہ کہتے ہیں عموماً پہلے نہیں ہوتی تھی اور جو صفحہ کھلا ہوا تھا اس پر الوداع کہنے کی دعا اور بلندی پر چڑھنے کی دعا تحریرتھی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم محمد یحیی خان صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم محمد یحیی خان صاحب شہید ابن مکرم حضرت ملک محمد عبد اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔شہید مرحوم کے والد حضرت ملک محمد عبد اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دادا حضرت برکت علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 140