شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 105
{ اس خطبہ کے ساتھ جلسہ سالانہ جرمنی 2010ء کا افتتاح بھی ہو رہا تھا۔چنانچہ خطبہ کے آغاز میں حضور ایدہ اللہ نے جلسہ سالانہ کی مناسبت سے ضروری نصائح فرمائیں اور بعد ازاں شہداء کے ذکر خیر کا مضمون بیان فرمایا۔(ناشر)} آج کے خطبہ کا مضمون بھی انہی شہداء کے ذکر خیر پر ہی ہے جنہوں نے اپنی جان کی قربانیاں دے کر ہماری سوچوں کے نئے راستے متعین کر دیئے ہیں“۔مکرم خلیل احمد سولنگی صاحب شہید آج کی فہرست میں سب سے پہلا نام جو میرے سامنے ہے، مکرم خلیل احمد سولنگی صاحب شہید ابن مکرم نصیر احمد سولنگی صاحب کا ہے۔یہ ترتیب کوئی خاص وجہ سے نہیں ہے، جس طرح کوائف میرے سامنے آتے ہیں میں وہ بیان کر رہا ہوں۔مکرم خلیل احمد سولنگی صاحب شہید کے آباؤ اجداد کا تعلق قادیان کے ساتھ گاؤں کھارا تھا، وہاں سے ہے۔ان کے دادا حضرت ماسٹر محمد بخش سولنگی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔مکرم عبد القادر سوداگر مل صاحب بھی ان کے عزیزوں میں سے تھے۔پارٹیشن کے بعد یہ لوگ گوجرانوالہ شفٹ ہو گئے۔شہید نے گورنمنٹ کالج لاہور سے الیکٹریکل انجینئر نگ کرنے کے بعد پانچ سال واپڈا میں ملازمت کی، پھر اپنے والد صاحب کے ساتھ کاروبار شروع کر دیا۔والد صاحب کی وفات کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا۔1997ء میں یہ لاہور آ گئے اور یہاں کا روبار کرتے رہے اور ایک سال پہلے گارمنٹس کے امپورٹ کا امریکہ میں کاروبار شروع کیا اور امریکہ میں رہائش پذیر 105