شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 95
مکرم محمد اشرف پهلر صاحب شہید - مکرم محمد اشرف بھلر صاحب شہید ابن مکرم محمدعبداللہ صاحب۔شہید مرحوم کے آباؤ اجدا در کھ شیخ ضلع لاہور کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا مکرم چوہدری سکندر احمد صاحب احمدی ہوئے تھے۔چوہدری فتح محمد صاحب سابق نائب امیر ضلع لاہور کے تایا تھے آباؤ اجداد کے ذریعے زمین تھی کھیتی باڑی کرتے تھے۔لیکن کچھ عرصے بعد رائے ونڈ میں اینٹوں کا بھتہ بنالیا۔تعلیم صرف پرائمری تھی۔2004ء میں عمرہ کرنے کے لئے بھی گئے اور سب بھائیوں کو جماعتی کام کرنے کی تلقین کرتے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 47 سال تھی۔گھر کے واحد کفیل تھے۔ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں ان کی شہادت ہوئی۔جمعہ با قاعدگی سے ادا کرتے تھے۔سانحہ کے روز بھی مسجد بیت النور کے ہال میں تھے۔ہال کا چھوٹا دروازہ بند کر کے کمر دروازے کے ساتھ لگا کر اس کے آگے کھڑے ہو گئے۔دہشت گرد باہر سے زور لگاتا رہا لیکن دروازہ نہیں کھولنے دیا۔تو دہشت گرد نے باہر سے ہی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس سے ان کی کمر چھلنی ہو گئی اور موقع پر شہید ہو گئے۔دروازہ توڑنے کے لئے جو گولیوں کی بوچھاڑ کی تو ان کو لگتی رہیں۔دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔اپنے علاقے میں اپنی شرافت اور ایمانداری کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔بعض غیر از جماعت بھی ان کی نماز جنازہ میں شامل ہوئے۔اور 30 مئی کو نوائے وقت اخبار میں یہ خبر آئی کہ جنہوں نے بھی غیر احمد یوں نے ان کا جنازہ پڑھا ہے مولویوں کی طرف سے اعلان ہوا کہ ان کا نکاح ٹوٹ گیا ہے۔اور ایکسپریس ٹی وی پر یہ خبر چلتی رہی۔جنازہ پڑھنا تو بڑی بات ہے یہ مولوی تو جنہوں نے تعزیت کی ہے اور ہمدردی کی ہے ان کے بھی نکاح توڑ کے بیٹھے ہوئے ہیں۔گھر والے کہتے ہیں کہ عمرہ ادا کرنے کے بعد تہجد کی ادائیگی میں بڑے باقاعدہ ہو گئے تھے۔قرآنِ کریم پڑھنے کی بھی روزانہ تلقین کرتے تھے۔اپنے بچوں کو بھی کہتے تھے کہ قرآن کریم روزانہ پڑھو چاہے ایک لائن پڑھو اور پھر ترجمہ پڑھو، کیونکہ اس کے بغیر کوئی فائدہ نہیں۔95