شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 96
مکرم مبارک احمد طاہر صاحب شہید مکرم مبارک احمد طاہر صاحب شہید ابن مکرم عبد المجید صاحب شہید لاہور کے رہنے والے تھے۔ان کی دادی محترمہ قادیان کی تھیں۔ان کے والد محترم نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بیعت کی۔یہ ایک بینک میں ٹائپسٹ کے طور پر بھرتی ہوئے اور اس سروس کے دوران پہلے بی اے کیا۔پھر ایم اے کیا۔اور بینک کے مختلف کورسز بھی کئے اور بینک میں ہی ترقی کرتے کرتے اس وقت نیشنل بنک میں وائس پریذیڈنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔اور سینیئر پریذیڈنٹ کی پروموشن بھی ان کی ڈیو (Due) تھی۔بیسٹ ایمپلائی (Best Employee) ہونے کا بینک کا ان کو کیش پرائز بھی ملا۔مولا نا دوست محمد صاحب شاہد مرحوم مؤرخ احمدیت کے یہ داماد تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 57 سال تھی۔بطور نائب قائد ناظم تعلیم حلقہ دارالذکر خدمت سرانجام دے رہے تھے۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔سانحہ والے روز نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں آئے اور خود مین ہال میں پیچھے بیٹھ گئے اور دونوں بیٹے دوسرے ہال میں بیٹھ گئے۔جب دہشتگرد نے اپنی کارروائی شروع کی اور مربی صاحب نے دعا کے لئے کہا تو انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنی شروع کر دی۔دعا کے دوران ہی ایک گولی ان کے بائیں بازو میں لگی اور دوسری دل کے پاس، جس سے موقع پر ہی ان کی شہادت ہو گئی۔بہت ہمدرد انسان تھے۔بینک میں اپنے لیول کے آفیسر سے اتنی دوستی نہیں تھی جتنی کہ ان کی اپنے ماتحت ورکر سے دوستی تھی۔اپنے گھر میں نماز سینٹر بنایا ہوا تھا۔اور پہلی منزل صرف نماز سینٹر کے لئے ہی تعمیر کروائی تھی۔خلافت سے بہت عشق تھا۔ان کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ جماعتی کام سے واپس آتے ہوئے اگر رات کے تین بج جاتے تو ہمیں کچھ نہیں کہتے تھے۔اگر بچے گئے ہیں اور کسی جماعتی کام میں مصروف ہیں رات کے تین بج جائیں تب بھی کچھ نہیں کہتے تھے۔لیکن اگر کسی اور کام سے ہم گھر سے باہر جاتے اور عشاء کی 96