شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 89 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 89

کے بعد مقابلے کا امتحان پاس کر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوئے اور ڈپٹی ڈائریکٹر لیبر ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔گارڈن ٹاؤن میں اس وقت سیکرٹری مال کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 80 سال تھی۔مسجد بیت النور میں ان کی شہادت ہوئی۔ان کے گھر والے کہتے ہیں کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے جانے سے قبل گھر میں سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے لیٹے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آج سکون کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔جانے کو جی نہیں چاہ رہا۔پھر تھوڑی دیر بعد اٹھ کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے چلے گئے اور جاتے ہوئے آواز دی کہ میں جا رہا ہوں۔پھر دوسری دفعہ کہا کہ میں جاہی رہا ہوں۔داماد کے ساتھ بیت النور میں باہر صحن میں بڑی کرسیوں پر بیٹھے تھے، شروع کے حملے میں کرسیوں پر بیٹھنے والوں کو فوری طور پر ہال کے اندر بھجوا دیا گیا۔جہاں ان کی شہادت ہوئی۔جسم پر تین گولیاں لگی ہوئی تھیں۔ان کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ کافی سال قبل شہید مرحوم نے بتایا کہ ان کو آواز آئی کہ اِنِّی رَافِعُكَ وَ مُتَوَفِّيْكَ شاید سنے والے نے یا بیان کرنے والے نے الٹا لکھ دیا ہو۔ہوسکتا ہے اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ ہو، بہر حال جو بھی ہے ، تو کہتے ہیں مجھے آواز آئی لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔کہتے ہیں شہادت سے پندرہ دس میں دن پہلے مجھے یہ آواز آئی، کہ We recieve۔you with open arms with red carpet۔شہید مرحوم نے شہادت سے چند دن قبل خواب میں ایک گھر دیکھا۔اس میں ایک خوبصورت بگھی آ کر رکی ، اور آواز آئی ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ آئے ہیں۔آپ گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ سے کہا کرتے تھے کہ میں اپنے آباؤ اجداد کی طرح دین کی خدمت نہیں کر سکا۔اس سے بڑے پریشان ہوتے تھے۔حقوق العباد کی ادائیگی ان کا خاص وصف تھا۔صلہ رحمی کرنے والے تھے اور بڑے زندہ دل آدمی تھے۔89