شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 88
مکرم طاہر محمود احمد صاحب شہید مکرم طاہر محمود احمد صاحب شہید ابن مکرم سعید احمد صاحب مرحوم۔یہ کوٹ اڈ وضلع مظفر گڑھ کے رہنے والے تھے۔1953ء میں آپ کے والد صاحب خاندان میں پہلے احمدی ہوئے۔1993ء میں لاہور منتقل ہو گئے۔شہید مرحوم نے کوٹ اڈو سے میٹرک کیا۔پھر ایک پرائیویٹ ملازمت اختیار کر لی۔پھر ملائیشیا چلے گئے۔تھوڑے سے ذہنی طور پر پسماندہ بھی تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 53 سال تھی۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں ان کی شہادت ہوئی۔جمعہ پر آنے سے قبل حلقے کے صدر صاحب کے گھر گئے تو صدر صاحب نے ویسے ہی مذاقاً کہہ دیا کہ چلو میں تمہیں جمعہ پڑھا کر لاتا ہوں اس طرح صدر صاحب کے ساتھ پہلی دفعہ مسجد بیت النور گئے تھے۔اور وہیں ان کی شہادت ہوئی ورنہ اکثر ٹھوکر نیاز بیگ سنٹ یا کبھی کبھی دارالذکر جا کر نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔رات شام سات بجے ان کی شہادت کا علم ہوا۔چھاتی میں دو گولیاں اور ماتھے پر ایک گولی لگی ہوئی تھی۔بڑے دبنگ احمدی تھے۔زندگی میں بھی کہتے تھے کہ میں گولیوں سے نہیں ڈرتا، میں نے شہید ہی ہونا ہے۔سارے علاقے میں واقفیت تھی۔مخلص اور جذباتی احمدی تھے اور ہر راہ چلتے کو السلام علیکم کہا کرتے تھے۔مکرم سید ارشاد علی صاحب شہید مکرم سید ارشاد علی صاحب شہید ابن مکرم سید سمیع اللہ صاحب۔شہید مرحوم کو چہ میر حسام الدین سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا حضرت سید حصلت علی شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور نانا حضرت سید میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی صحابی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقائے خاص میں شامل تھے۔سیالکوٹ میں قیام کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے گھر قیام کیا۔ان کے والد صاحب جامعہ احمدیہ چنیوٹ اور ربوہ کے پرنسپل بھی رہ چکے ہیں۔انہوں نے اپنا گھر جماعت کو وقف کر دیا تھا۔شہید مرحوم بی اے 88