شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 55

اس طرح وہ والد کی شہادت پر پاکستان پہنچ بھی گئے۔ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ شہادت سے پہلے جو زخم آنے سے خون بہہ رہا تھا تو ایک پڑوسی میاں محمود احمد صاحب کو کہا کہ میں گیا۔میرے بچوں کا خیال رکھنا۔انہوں نے کپڑا پھاڑ کر ان کے زخم کو باندھا۔لوگوں کو آخر وقت تک سنبھالتے رہے۔ایک نوجوان بچے کو سارے عرصے میں پکڑ کر اس کی حفاظت کی خاطر اپنے پیچھے رکھا کہ اس کو نہ گولی لگ جائے۔سب کا خیال کرتے رہے اور دعا کی تلقین کرتے رہے۔خود بھی درود شریف پڑھتے رہے اور اپنے پڑوسی میاں محمود صاحب کو بھی تلقین کرتے رہے۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ ہر بندے سے بے غرض تعلق تھا۔جمعہ سے پہلے پڑوسیوں کو جمعہ کے لئے نکالتے اور ہر کسی سے گرمجوشی کے ساتھ ملتے اور طبیعت مزاحیہ بھی تھی ہر ایک کی دلجوئی فرماتے۔مسعود صاحب کی آخری خواہش تھی کہ میرا بیٹا مربی بن جائے جو کہ جامعہ احمد یہ ربوہ میں اس سال درجہ خامسہ میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔قناعت پسند تھے، چھوٹا سا گھر تھا لیکن بڑے خوش تھے۔میرے خطبات جو ہیں بڑے غور سے سنتے تھے اور سنواتے تھے۔اسی طرح مرکزی نمائندگان اور بزرگانِ سلسلہ کے بارے میں ان کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے گھر آئیں اور ان کو خدمت کا موقع ملے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی تمام دعائیں اور نیک خواہشات جو اپنے بچوں کے لئے اور واقف زندگی بچے کے لئے تھیں، ان کو بھی پورا فرمائے۔اور اس واقف زندگی بچے کو وقف کا حق نبھانے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔مکرم محمد آصف فاروق صاحب شہید مکرم محمد آصف فاروق صاحب شہید ابن مکرم لیاقت علی صاحب۔ان کے والد صاحب نے 1994ء میں بیعت کی تھی۔1994ء میں ایک آدمی ان کے والد صاحب کو مکرم مولانا مبشر کا ہلوں صاحب کے پاس لے گیا۔انہوں نے کہا کہ کوئی سوال پوچھیں تو انہوں نے کہا 55