شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 44
ان کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ بہت مخلص اور خلافت سے محبت کرنے والے تھے۔نمازی، پر ہیز گار، جماعت کا درد رکھنے والے انسان تھے ایک دفعہ ڈرائیور کی مشکل پیش آئی تو میں نے کہا کہ اپنی پلٹن سے ڈرائیور مانگ لیں تو جواباً کہا کہ نہیں مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت دیا ہے۔خود ہی خرچ کروں گا۔ابتدائی دور میں 1943ء میں نظام وصیت میں شامل ہوئے۔لاہور کے ایک نائب امیر ضلع تھے مکرم میجر لطیف احمد صاحب۔وہ بھی فوج سے ریٹائر ہوئے تھے اور میجر تھے، اور یہ فوج سے ریٹائر ہوئے اور جنرل تھے۔وہ ان کو مذاق میں کہا کرتے تھے کہ دیکھو آج جنرل بھی میرے نیچے کام کر رہا ہے۔کیونکہ وہ میجر صاحب نائب امیر تھے تو شہید مرحوم ہنس کے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ہمارا کام تو اطاعت ہے۔جب میں احمدی ہوں اور جماعت کی خاطر کام کر رہا ہوں تو پھر میجری اور جرنیلی کا کوئی سوال نہیں۔مسجد نور میں جو ماڈل ٹاؤن کی مسجد ہے، عموماً ہال سے باہر کرسی پر بیٹھا کرتے تھے اور جو سانحہ ہوا ہے اس دن جب فائرنگ شروع ہوئی ہے تو ایک صاحب نے ، احمدی دوست روشن مرزا صاحب نے کہا کہ اندر آجائیں۔تو انہوں نے کہا کہ آپ باقی ساتھیوں کو پہلے اندر لے جائیں اور پھر آخر میں خود اندر گئے اور ہال کے آخری حصہ میں لگی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔اس کے بعد لوگ تہہ خانے کی طرف جاتے رہے اور ان کو بھی لے جانے کی کوشش کی۔لیکن انہوں نے کہا کہ نہیں، مجھے یہاں ہی رہنے دو۔اسی دوران دہشتگر دنے ایک گرینیڈان کی طرف پھینکا جو ان کے قدموں میں پھٹا۔گرینیڈ پھٹنے سے ان کے ساتھ والے بزرگ بھی نیچے گرے لیکن اس کے بعد اٹھ کر دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئے۔پھر دہشتگرد نے ان پر فائرنگ کی جس سے گردن میں ایک گولی لگی اور وہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی سجدہ کی حالت میں شہید ہوئے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے بڑی عاجزی سے اور بڑی وفا سے انہوں نے اپنی جماعت کی خدمات بھی ادا کی ہیں اور عہد بیعت کو بھی نبھایا ہے۔شہادت کا رتبہ تو ان کو فوج میں بھی بعض ایسے حالات پیدا ہوئے جب مل سکتا تھا۔لیکن خدا تعالیٰ کو اپنے بندوں کی کوئی نہ کوئی 44