شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 38

ہوں۔اس فنڈ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے شہداء کی فیملیوں کا خیال رکھا جاتا ہے، جن جن کو ضرورت ہو ان کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں اور اگر اس فنڈ میں کوئی گنجائش نہ بھی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ان کا حق ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ ان کا خیال رکھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ ہم ان کا خیال رکھتے رہیں گے۔تو بہر حال ” سیدنا بلال فنڈ“ قائم ہے جو لوگ شہداء کی فیملیوں کے لئے کچھ دینا چاہتے ہوں اس میں دے سکتے ہیں۔مکرم منیر احمد شیخ صاحب شہید (امیر ضلع لاہور) آج سب سے پہلے میں مکرم منیر احد شیخ صاحب کا ذکر کروں گا جو دارالذکر میں شہید ہوئے تھے اور امیر ضلع لاہور تھے۔ان کے والد صاحب مکرم شیخ تاج دین صاحب سٹیشن ماسٹر تھے اور ان کے والد نے 1927 ء میں احمدیت قبول کی تھی۔جالندھر کے رہنے والے تھے۔ملک سیف الرحمن صاحب مرحوم سے ان کی دوستی تھی اور یہ دونوں پہلے احمدیت کے بہت زیادہ مخالف تھے۔یعنی شیخ صاحب کے والد اور حضرت مفتی ملک سیف الرحمن صاحب۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب دیکھیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شان میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اشعار پڑھے تو پھر ان کو جستجو پیدا ہوئی اور چند کتابیں پڑھنے کے بعد ان دونوں بزرگوں کے دل صاف ہو گئے۔بہر حال مکرم شیخ منیر احمد صاحب، شیخ تاج دین صاحب کے بیٹے تھے۔ان کی تعلیم ایل ایل بی تھی۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ سول جج بنے۔پھر مختلف جگہوں پر ان کی پوسٹنگ ہوتی رہی، اور پھر سیشن جج سے ترقی ہوئی اور پھر لاہور میں سپیشل جج اینٹی کرپشن پر ان کی تعیناتی ہوئی۔پھر پیشل جج کسٹم کے طور پر کام کیا۔اور ٹیب (NAB) کے حج کے طور پر بھی کام کرتے رہے اور 2000ء میں یہ ریٹائر ہوئے۔موصوف شیخ صاحب کے انصاف کی ہر جگہ شہرت تھی۔جن کا بھی ان سے واسطہ پڑتا تھا 38