شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 30 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 30

رہے اور اس کے بعد بھی کوئی بھگدڑ نہیں مچی بلکہ بڑے آرگنا ئز ڈ طریقے سے دیواروں کے ساتھ لگ گئے تا کہ گولیوں سے بچ سکیں اور بیٹھ کر دعائیں کرتے رہے۔اور ایک بزرگ اس حالت میں مسلسل سجدہ میں رہے ہیں کوئی پرواہ نہیں کی کہ دائیں بائیں گولیاں آ رہی ہیں۔یہ ہیں ایمان والوں اور حقیقی ایمان والوں کے نظارے۔کئی خطوط مجھے اس مضمون کے بھی آ رہے ہیں جو سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كم مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ- فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يُنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا - (الاحزاب :24) کہ مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔پس ان میں سے وہ بھی ہیں جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو ابھی انتظار کر رہا ہے۔اور انہوں نے ہرگز اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔اور وَمِنْهُمْ مَّنْ يُنتظر لکھ کر یہ لوگ پھر اپنے عہدِ وفا اور اور قربانی کا یقین دلا رہے ہیں۔پس دشمن تو سمجھتا تھا کہ اس عمل سے احمدیوں کو کمزور کر دے گا ، جماعت کی طاقت کو توڑ دے گا۔شہروں کے رہنے والے شاید اتنا ایمان نہیں رکھتے۔لیکن انہیں کیا پتہ ہے کہ یہ شہروں کے رہنے والے وہ لوگ ہیں جن میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایمان کی حرارت بھر دی ہے۔جو دین کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لئے ہر دم تیار ہیں۔بے شک دنیا کے دھندوں میں بھی لگے ہوئے ہیں لیکن صرف دنیا کے دھندے مقصود نہیں ہیں۔جب بھی دین کے لئے بلایا جاتا ہے تو لبیک کہتے ہوئے آتے ہیں۔بلکہ جیسا کہ میں نے کہا یہ درندگی کے بجائے انسانیت کے علمبردار ہیں۔آخر یہ احمدی بھی تو اسی قوم میں سے آئے ہیں۔وہی قبیلے ہیں، وہی برادریاں ہیں جہاں سے وہ لوگ آ رہے ہیں جو مذہب کے نام پر درندگی اور سفا کی دکھاتے ہیں۔لیکن مسیح موعود کے ماننے کے بعد یہی لوگ ہیں جو مذہب کی خاطر قربانیاں تو دیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق۔میں نے ذکر کیا تھا کہ ان واقعات کا پریس نے اور پاکستان پریس نے بھی ذکر کیا۔30