شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 25

عزت کی قربانی کا عہد گردش کر رہا ہے۔جن کے اپنے اندر عہد وفا نبھانے کا جوش ہے۔دوسرے دشمن کا یہ خیال تھا کہ اس طرح اتنی بڑی قربانی کے نتیجے میں احمدی برداشت نہیں کر سکیں گے اور سڑکوں پر آجائیں گے۔توڑ پھوڑ ہو گی ، جلوس نکلیں گے اور پھر حکومت اور انتظامیہ اپنی من مانی کرتے ہوئے جو چاہے احمدیوں سے سلوک کرے گی۔اور اس رد عمل کو باہر کی دنیا میں اچھال کر پھر احمدیوں کو بدنام کیا جائے گا۔اور پھر دنیا کو دکھانے کے لیے، بیرونی دنیا کو باور کرانے کے لئے یہ لوگ اپنی تمام تر مدد کے وعدے کریں گے۔لیکن نہیں جانتے کہ احمدی خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ صبر اور دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد مانگنے والے اور اس کی پناہ میں آنے والے لوگ ہیں۔خلافت کے جھنڈے تلے جمع ہونے والے لوگ ہیں۔اور یہ بھی ایسا رد عمل نہیں دکھا سکتے۔جب یہ رد عمل جو مخالفین کی توقع تھی ان لوگوں نے نہیں دیکھا اور پھر بیرونی دنیا نے بھی اس ظالمانہ حرکت پر شور مچایا اور میڈیا نے بھی ان کو ننگا کر دیا تو رات گئے حکومتی اداروں کو بھی خیال آ گیا کہ ان کی ہمدردی کی جائے۔اور اپنی شرمندگی مٹائی جائے۔اور پھر آ کے بیان بازی شروع ہوگئی۔ہمدردیوں کے بیان آنے لگ گئے۔حیرت ہے کہ ابھی تک دنیا کو، ان لوگوں کو خاص طور پر یہ نہیں پتہ چلا کہ احمدی کیا چیز ہیں؟ گزشتہ ایک سو بیس سالہ احمدیت کی زندگی کے ہر ہر سیکنڈ کے عمل نے بھی ان کی آنکھیں نہیں کھولیں۔یہ ایک امام کی آواز پر اٹھنے اور بیٹھنے والے لوگ ہیں۔یہ اس مسیح موعود کے ماننے والے لوگ ہیں جو اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو دنیا میں رائج کرنے آیا تھا۔جنہوں نے جانور طبع لوگوں کو انسان اور انسانوں کو با خدا انسان بنایا تھا۔پس اب جبکہ ہم درندگی کی حالتوں سے نکل کر با خدا انسان بننے کی طرف قدم بڑھانے والے ہیں، ہم کس طرح یہ توڑ پھوڑ کر سکتے ہیں۔جلوس اور قتل و غارت کا رد عمل کس طرح ہم دکھا سکتے تھے۔ہم نے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون کہا اور اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا۔ہم نے تو اپنا غم اور اپنا دکھ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دیا ہے اور اس کی رضا پر راضی اور اس کے فیصلے کے انتظار میں ہیں۔25