شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 201
( ملفوظات جلد 2 صفحہ 133 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) فرمایا: ” مسلمان وہ ہے جو اپنے تمام وجود کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے وقف کر دے اور سپر د کر دے اور اعتقادی اور عملی طور پر اس کا مقصود اور غرض اللہ تعالیٰ ہی کی رضا اور خوشنودی ہو“۔فرمایا: ایک حقیقی مسلمان اللہ تعالیٰ سے پیار کرتا ہے یہ کہہ کر اور مان کر کہ وہ میرا محبوب ومولا پیدا کرنے والا اور محسن ہے، اس لئے اس کے آستانہ پر سر رکھ دیتا ہے۔سچے مسلمان کو اگر کہا جاوے کہ ان اعمال کی پاداش میں کچھ بھی نہیں ملے گا اور نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے اور نہ آرام ہیں نہ لذات ہیں تو وہ اپنے اعمالِ صالحہ اور محبت الہی کو ہرگز ہرگز چھوڑ نہیں سکتا۔کیونکہ اس کی عبادات اور خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کی فرمانبرداری اور اطاعت میں فنا کسی پاداش یا اجر کی بناء اور امید پر نہیں ہے۔(ملفوظات جلد 2 صفحہ 133 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پھر آپ فرماتے ہیں: ” تمہارا فرض ہے کہ بچی تو بہ کرو اور اپنی سچائی اور وفا داری سے خدا کو راضی کرو تا کہ تمہارا آفتاب غروب نہ ہو۔(ملفوظات جلد 2 صفحہ 140 جدید ایڈیشن مطبوعه ر بوه) پس مسیح محمدی کی بیعت میں آ کر جس آفتاب صداقت اور نور محمدی سے ہم احمدی فیض پا رہے ہیں جس سے دوسرے مسلمانوں نے باوجود اس سورج کے پاس ہونے کے فائدہ نہیں اٹھایا اس سورج کو ہمیشہ چمکتا اور روشن رکھنے اور فیض حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے تعلق کی ضرورت ہے۔مجھے ان دہشتگردی کے واقعات کے بعد جس کثرت سے اس مضمون کے خط آ رہے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے قریب ہوئے ہیں اور ہمارے ایمان میں ترقی ہوئی ہے اس تعلق میں خدا تعالیٰ کی قربت کے مزید مدارج طے کرنے کی طرف ہر احمدی کو اب مستقل مزاجی سے توجہ کی ضرورت ہے۔پھر دیکھیں وہ خدا جو ہمارا خدا اور سب طاقتوں والا خدا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئے گئے اپنے تائیدات کے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے کس تیزی سے اپنی تائیدات کے نظارے دکھاتے ہوئے دشمن کے ہر مکر کو اُس پر الٹاتا چلا جائے گا۔آج تک ہم نے خدا تعالیٰ کی فعلی شہادتیں مسیح محمدی کے قائم کردہ اس سلسلے کے ساتھ ہی دیکھی ہیں اور 201