شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 202
اس کو دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں اور جو خدا آج تک جماعت احمدیہ کی حفاظت کرتا آیا ہے اور ترقی کی نئی راہیں دکھاتا رہا ہے اور دکھاتا چلا جا رہا ہے وہ انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی دکھائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ”اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے دو فریق ہو گئے ہیں۔جس طرح ہماری جماعت شرح صدر سے اپنے آپ کو حق پر جانتی ہے اسی طرح مخالف اپنے غلو میں ہر قسم کی بے حیائی اور جھوٹ کو جائز سمجھتے ہیں۔شیطان نے ان کے دلوں میں جما دیا ہے کہ ہماری نسبت ہر قسم کا افترا اور بہتان ان کے لئے جائز ہے اور نہ صرف جائز بلکہ ثواب کا کام ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 176 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور یہ بات آج بھی سچ ہے۔مجھے کسی نے بتایا کہ لاہور میں مسجد پر حملے کے بعد ان کا کوئی عزیز ٹیکسی پر بیٹھا تو باتوں باتوں میں ڈرائیور سے اس نے کہا کہ کیا خیال ہے یہ ظلم نہیں ہوا جواحمدیوں کی مسجد میں فائرنگ ہوئی ہے اور ظلم ہوا ہے؟ تو ڈرائیور نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ بالکل ٹھیک ہوا کیونکہ اس مسجد ( وہ مسجد تو نہیں کہتے عبادت گاہ کہتے ہیں ) کے اندر یہ لوگ ایک بڑا خطرناک کام کر رہے تھے جس سے تمام امت مسلمہ تباہ ہو سکتی تھی۔نعوذ باللہ۔تو یہ باتیں علم نہ رکھنے والے عوام کے دماغوں اور دلوں میں جھوٹی کہانیاں سنا سنا کر ان نام نہاد علماء نے ہی بھری ہوئی ہیں۔اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ، تا کہ اس کا جواز بنا کر پھر احمد یوں پر ظلم کئے جائیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کی ان باتوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جھوٹ سچ کی تمیز تو اب ان کو رہی نہیں۔اس لئے اب ضروری ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو ان کے مقابلے میں بالکل چھوڑ دیں، یعنی ان کے الزامات پر صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فیصلے پر نگاہ کریں۔اب مقابلے کو چھوڑ دیں اور خدا تعالیٰ کے فیصلے پر نگاہ کریں۔” جس قدر وقت ان کی بیہودگیوں اور گالیوں کی طرف توجہ کرنے میں ضائع کریں بہتر ہے کہ وہی وقت استغفار اور دعاؤں کے لئے دیں۔آپ فرماتے ہیں کہ ” جس قدر وقت اُن کی بیہودگیوں اور گالیوں کی طرف توجہ کرنے " 202