شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 191

چھوڑ سکتے کبھی نہیں چھوڑ سکتے اور کبھی نہیں چھوڑ سکتے خواہ ہماری گردنیں کٹ جائیں۔پھر تم کہتے ہو کہ ہم اس بات سے انکار کر دیں کہ محمد، اللہ کے خاص رسول ہیں۔وہ رسول ہیں جن کی رسالت کا اقرار کرنا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور معبود حقیقی ہونے کے اقرار کے ساتھ ضروری ہے۔اس کے بغیر اب تا قیامت خدا تعالیٰ کا قرب پانا ممکن نہیں۔اس اقرار کے بغیر اب تا قیامت دعاؤں کی قبولیت کی معراج حاصل کرنا ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ انہی کی زیادہ سنتا ہے جو اس کے پیارے ہیں۔اور اس قبولیت کے لئے جو نسخہ قرآنِ کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان کروا کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ إنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله ( آل عمران : 32) کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو وہ تم سے محبت کرے گا۔پس ہم تو جب اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو نہ سمجھیں اور آپ کی کامل پیروی کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار نہ پائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب یہ مسیحیت اور امامت زمانہ کا مقام ملا تو یہ مقام آپ علیہ السلام کو اپنے آقا کی کامل پیروی اور محبت کے نتیجہ میں ملا۔چنانچہ اس مقام کے عطا ہونے سے پہلے آپ کو جو نظارہ دکھایا گیا اس میں فرشتوں نے یہی کہہ کر تو آپ کی طرف اشارہ کیا تھا کہ هذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُوْلَ الله ( تذکرہ صفحہ 34 ایڈیشن چہارم مطبعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ) یعنی یہ شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے۔آپ نے اس کی وضاحت فرمائی کہ اس مقام کی سب سے بڑی شرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے۔اور فرشتوں نے اعلان کیا کہ یہ محبت کا جذ بہ سب سے زیادہ اس شخص میں پایا جاتا ہے۔پس یہ وہ مقام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح اور حقیقی ادراک کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو عطا ہوا اور آپ کی وساطت سے ہمیں عطا ہوا۔آپ خود ایک جگہ فرماتے ہیں: وو سو میں نے خدا کے فضل سے ، نہ اپنے کسی ہنر سے، اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو 191