شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 192

مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔اور میرے لئے اس نعمت کا پا نا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولیٰ فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے راہوں کی پیروی نہ کرتا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 64) آپ فرماتے ہیں سو میں نے جو کچھ پایا، اُس پیروی سے پایا اور میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اُس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کا ملہ کا حصہ پا سکتا ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحه 65-64) پس ہم نے اس زمانے کے امام، جسے خدا تعالیٰ نے مسیح و مہدی بنا کر بھیجا ہے، اس مسیح و مہدی سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عرفان حاصل کیا ہے کہ آپ کی کامل پیروی سے ، آپ سے عشق و محبت کے حقیقی اظہار اور عمل سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو منعم علیہ گروہ میں شامل کرتا ہے۔جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ (النساء: 70) جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔اور اللہ تعالیٰ کے اس انعام کی وجہ سے مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ (النساء : 70) یعنی وہ لوگ نبیوں ،صدیقوں ،شہداء اور صالحین کے مقام سے حصہ پانے والے بن گئے۔پس ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح ادراک رکھنے والوں اور آپ سے محبت رکھنے والوں کو ان درجات اور مرتبوں تک خدا تعالیٰ لے جاسکتا ہے اور لے جاتا ہے جو اس کے مقرب ترین بندے ہیں۔مخالفین ہمیں کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی اس تعلیم کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی تعریف کرو ورنہ ہم تمہاری گردنیں کاٹیں گے۔ہماری تعریف کے مطابق لَا اِلهَ إِلَّا الله پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو تو ٹھیک ورنہ مرنے کے لئے تیار ہو۔ہماری تعریف کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کو سمجھنے کے لئے تیار ہوتو ٹھیک، ورنہ اپنی جان سے ہاتھ دھونے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ہم اپنے مخالفین سے کہتے ہیں کہ ہمیں اس کلمہ کی قسم جو قیامت کے دن ہمارے اور 192