شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 189

کے نام پر خدا والوں سے روا رکھا گیا اور رکھا جا رہا ہے، کیا اس بات پر خدا کی غیرت جوش نہیں دکھائے گی؟ دکھائے گی اور یقیناً دکھائے گی۔احمدیوں کو کیوں ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے؟ صرف اس بات پر یہ ظلم ہو رہا ہے کہ تم لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کے حقیقی معنی کو چھوڑ کر ان معنوں کی پیروی کرو جن سے اللہ اور اس کے رسول کی تحقیر اور تو ہین ہوتی ہے۔احمدی اپنی گردنیں تو کٹوا سکتے ہیں لیکن کبھی اللہ اور اس کے رسول کے نام کی تحقیر اور تو ہین برداشت نہیں کر سکتے۔کبھی خدا تعالیٰ کی صفات کو محدود نہیں کر سکتے۔کبھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام افضل الرسل اور خاتم النبین پر آنچ نہیں آنے دے سکتے۔ہم کہتے ہیں لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کا مطلب ہے کہ ہمارا خدا ازل سے معبود حقیقی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ہم کہتے ہیں ہمارے معبود حقیقی کی تمام صفات کا اظہار جیسے پہلے ہوتا تھا، آج بھی ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے۔جس طرح پہلے وہ بگڑی ہوئی قوموں کی اصلاح کے لئے وحی و الہام کر کے اپنے خاص بندے بھیجتا تھا اس زمانے میں بھی اس نے بھیجا ہے۔لیکن جیسا کہ اس کی سنت رہی ہے کبھی شرعی نبی بھیجتا رہا، کبھی غیر شرعی نبی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور قرآن کریم کے نازل ہونے کے بعد اس نے شریعت کامل کر دی اور قیامت تک ہر زمانے کے انسان کی ضروریات کے لئے اس نے کامل اور مکمل تعلیم اتار دی۔لیکن اس کامل تعلیم کے سمجھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پیروی کرنے والے سے اب بھی اللہ تعالیٰ مکالمہ مخاطبہ کر کے اسے نبوت کے مقام تک پہنچا سکتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس نے پہنچایا۔اس نے یہ مقام عطا فرمایا تا کہ اس تعلیم کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری، جسے مرورِ زمانہ کے ساتھ دنیا بھول رہی تھی، دوبارہ دنیا پر روشن کرے۔تا کہ دنیا کو بتائے کہ لَا اِلهَ إِلَّا الله صرف زبانی اعلان نہیں ہے بلکہ ہمارا معبودوہ اللہ ہے جو آج بھی ان صفات کا جامع ہے جیسا ہمیشہ سے تھا۔وہ آج بھی دین کا درد رکھنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو قائم کرنے کی خواہش رکھنے والوں کی دعاؤں کو سنتے 189