شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 188

سکتے کہ پہلے تو اس میں یہ صفت تھی کہ براہ راست خلفاء بناتا تھا جو انبیاء کی صورت میں آئے ، لیکن اب اس کی یہ طاقت اور صفت ختم ہو گئی ہے۔آج بھی وہ جسے چاہے کلیم اللہ بنا سکتا ہے۔اور اس زمانے میں اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خاتم الخلفاء بنا کر اپنی اس صفت کا واضح اور روشن اظہار فرمایا ہے۔اور جس خدا نے مسیح موعود کو بھیجا ہے وہ اس سے کئے گئے وعدے بھی یقیناً پورے کرے گا اور اس کے ماننے والوں کی متضرعانہ دعاؤں کو بھی سنے گا اور یقیناً سنے گا اور سنتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔” کلام الہی میں لفظ مضطر ضرر یافتہ مراد ہیں جو محض ابتلا کے طور پر ضر ر یافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر۔سے وہ دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231) اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادتوں اور قبولیت دعا کے نظارے دیکھتے ہوئے ہم اس بات پر علی وجہ البصیرت قائم ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائے تو جاتے ہیں لیکن یہ آزمایا جانا سزا نہیں ہوتا بلکہ خدا ایمان کی مضبوطی کے لئے مومنوں کو آزماتا ہے۔جماعت احمدیہ کی ایک سو اکیس سالہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی الہی تقدیر کے تحت جماعت پر ابتلاء آیا اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ثبات قدم عطا فرمایا، دعاؤں کی طرف راغب کیا اور جماعت کی متضرعانہ اور مضطر بانہ دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے کامیابیوں کی طرف پہلے سے بڑھ کر رواں دواں کر دیا اور بَشِّرِ الصَّابِرِين (البقرہ:156) کی خوشخبری کا مصداق بنا دیا۔پس آج بھی جو ظلم جماعت پر پاکستان میں روا رکھا جا رہا ہے اور جس کی انتہائی بہیمانہ اور ظالمانہ صورت لاہور میں احمدیوں پر اجتماعی حملے کی صورت میں سامنے آئی اور حملہ بھی خدا کے گھر میں ، خدا کی عبادت کرنے والے نہتے احمدیوں پر۔تو اُس وقت جب حملہ ہورہا تھا، اُس وقت جس صبر اور حوصلہ اور اضطرار سے احمدی دعائیں کر رہے تھے اور اس کے بعد آج تک احمدیوں میں اضطراری کیفیت قائم ہے اور دعاؤں میں مصروف ہیں، تو کیا خدا تعالیٰ ان دعاؤں کو نہیں سنے گا؟ سنے گا اور انشاء اللہ یقیناً سنے گا۔یہ اس کا وعدہ ہے۔یہ ظلم جو خدا 188