شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 187

گزشتہ دنوں پاکستان میں، لاہور میں احمدیوں پر جو حالات گزرے ہیں، جس ظالمانہ اور سفا کا نہ طور پر افراد جماعت کو جمعہ کے دوران شہید کیا گیا ہے۔17 ،18 سال کے نوجوان سے لے کر 92 93 سال کے بوڑھے تک کا خون سفا کی کی بدترین مثالیں قائم کرتے ہوئے بہایا گیا ہے۔اور قانون نافذ کرنے والوں نے اپنی کسی مصلحت کے تحت اس خون کو بہنے دیا اور بر وقت مددنہ کی ورنہ شاید کئی قیمتی جانیں بچ جاتیں۔بہر حال جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اکثر احمدی خود بھی اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ إِنَّمَا أَشْكُوا بَى وَ حُزْنِی إِلَى اللهِ (یوسف: 87) ( کہ میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ کے حضور کرتا ہوں ) پس ہماری فریاد تو اللہ تعالیٰ کے حضور ہے جو مضطر کی دعائیں سنتا ہے۔جیسا کہ خود اس نے فرمایا ہے کہ میں ہی ہوں جو مضطر کی دعائیں سنتا ہوں۔وہ لوگ جو تکلیف میں ہیں، وہ لوگ جن پر ظلم کیا جاتا ہے، وہ لوگ جن پر جینا تنگ کیا جاتا ہے، جب وہ بے چین ہوکر مجھے پکارتے ہیں تو میں ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہوں۔فرماتا ہے آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ وَإِنَّهُ مَّعَ اللَّهِ - قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (سورۃ النمل آیت:63) نیز بتاؤ تو کون کسی بے کس کی دعا سنتا ہے جب وہ اس خدا سے دعا کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور وہ تم ( دعا کرنے والے انسانوں) کو ایک دن ساری زمین کا وارث بنادے گا۔کیا اس قادر مطلق اللہ کے سوا کوئی معبود ہے؟ کم ہی ہیں جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔پس ہم تو اس تمام طاقتوں کے مالک اور تمام صفات کاملہ سے متصف خدا کے ماننے والے ہیں۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہم کہیں کہ خدا پہلے تو سنتا تھا ، آج نہیں سنتا۔ہم یہ تو نہیں کہہ 187