شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 177
مین بازار میں ان کی اپنی قیمتی جائیداد تھی۔ان کی دکانیں تھیں، دکانوں پر بھتیجوں نے زندگی میں ہی قبضہ جمالیا تھا۔ایسے حالات میں ساری عمر سادہ زندگی بسر کی۔خاندان کی مخالفت بھی برداشت کی لیکن احمدیت سے تعلق نہ تو ڑا اور نہ کمزور ہونے دیا۔شہادت تک با قاعدہ بجٹ کے ممبر تھے گو آمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی مگر ادائیگی کرتے تھے۔پرانی وضع کے آدمی تھے۔سادہ لباس اور باقاعدگی سے جمعہ کی ادائیگی کے لئے سائیکل پر بیت النور وقت پر پہنچتے تھے اور پہلی صف میں بیٹھتے تھے۔ہر ایک کو بڑی گرمجوشی سے ملتے تھے اور جب مسجد میں آتے تھے تو بڑا وقت گزارتے تھے کہ جتنا زیادہ وقت احمدیوں کے درمیان میں گزرے اتنا اچھا ہے۔گھر کے اندر اور باہر انہوں نے باوجود مخالفت کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفاء کی تصویریں لگائی ہوئی تھیں۔عہد یداروں سے عقیدت رکھتے تھے۔تبلیغ کا شوق جنون کی حد تک تھا۔جہاں آپ کی رہائش ہے وہاں مخالفین کی سرگرمیاں عروج پر ہیں مگر کسی خوف کے بغیر دعوت الی اللہ جاری رکھتے تھے۔مکرم محمد حسین صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم محمد حسین صاحب شہید ابن مکرم نظام دین صاحب کا۔شہید مرحوم کے خاندان کا تعلق ضلع گورداسپور سے تھا۔آپ کی پیدائش بھی وہیں ہوئی۔کوئی دنیاوی تعلیم حاصل نہیں کی۔لیکن قرآن مجید پڑھنا جانتے تھے۔مکرم شیخ فضل حق صاحب سابق صدر جماعت سمی کے ذریعے بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔ان کے خاندان میں خود اور ان کی ایک بہن احمدی تھی۔مکرم انعام الحق کوثر صاحب مربی سلسلہ شکاگو امریکہ کے ماموں تھے۔کچھ عرصہ ایم ای ایس لیبر سپروائزر کے طور پر کام کرتے رہے۔کار پینٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ملازمت کے بعد کوئٹہ میں فرنیچر کی دکان بھی تھی۔فرقان فورس میں خدمت کی توفیق پائی۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 80 سال تھی اور مسجد دارالذکر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔جمعہ کے روز صدقہ دینا ان کا معمول تھا۔گھر سے گیارہ 177