شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 165
مکرم ملک حسن خورشید اعوان صاحب کے بارے میں امیر صاحب چکوال نے لکھا ہے، کہ دعوت الی اللہ کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے ، پچھلے چند سالوں سے آپ کے والد مکرم ملک خورشید احمد صاحب نے جماعت احمدیہ سے علیحدگی اختیار کی تو ملک حسن خورشید صاحب اپنے حقیقی عقیدے یعنی احمدیت سے منسلک رہے اور تا دمِ آخر اس کے ساتھ رہے۔نماز جمعہ گڑھی شاہو اور دارالذکر میں جا کر ادا کرتے تھے۔متعدد بار والدین کے اصرار کے باوجود اپنے ایمان پر قائم رہے۔مکرم و محترم محمود احمد شاد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم محترم محمود حمد شاد صاحب شہید ( مربی سلسلہ) ابن مکرم چوہدری غلام احمد صاحب کا۔شهید مرحوم کے خاندان کا تعلق خون ضلع گجرات سے تھا۔شہید مرحوم کے دادا مکرم فضل داد صاحب نے بیعت کی تھی۔شہید مرحوم کے والد بہت متعصب تھے۔ایک دفعہ ایک کتاب تبلیغ ہدایت فرش پر بکھری پڑی تھی اس کو اکٹھا کرنے لگے اور سوچا کہ اس کو پڑھنا نہیں ہے۔لیکن جب ترتیب لگا رہے تھے تو کچھ حصہ پڑھا، دلچسپی پیدا ہوئی اور ساری کتاب پڑھنے کے بعد کہا کہ میں نے بیعت کرنی ہے۔اور 1922 ء میں گیارہ سال کی عمر میں بیعت کر لی۔شہید مرحوم کے والد صاحب نائب تحصیلدار رہے۔آپ نے کبھی کسی سے رشوت نہیں لی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی سندھ میں زمینوں کے مختار عام تھے۔اور انتہائی نیک اور متقی انسان تھے۔شہید مرحوم 31 مئی 1962 ء کو پیدا ہوئے اور پیدائشی وقف تھے۔1986ء میں جامعہ پاس کیا۔اس کے علاوہ محلے کی سطح پر متعدد جماعتی عہدوں پر خدمت کا موقع ملا۔اس کے علاوہ نائب ایڈیٹر ماہنامہ خالد کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔پاکستان کے مختلف شہروں میں بطور مربی سلسلہ تقرری کے علاوہ تنزانیہ میں بھی گیارہ سال مربی سلسلہ کے طور پر خدمت کی توفیق پاتے رہے۔بیت نور ماڈل ٹاؤن میں قریباً تین ماہ قبل تقرری ہوئی تھی۔165