شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 166

بوقتِ شہادت ان کی عمر قریباً 48 سال تھی اور نظام وصیت میں بھی شامل تھے۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔سانحہ کے روز نیا سوٹ پہنا، نیا رو مال لیا۔اپنی رہائشگاہ میں دورکعت ادا کرنے کے بعد اپنے بیٹے کے ہمراہ نماز جمعہ کے لئے مین ہال میں پہنچ گئے۔لوگوں نے بتایا کہ حملے کے دوران آپ مسلسل لوگوں کو دعاؤں کی طرف توجہ دلا رہے تھے۔اور جب حملہ آور مسجد کے اندر آیا تو آپ نے بلند آواز میں نعرہ بھی لگایا اور مسلسل درود شریف کا ورد کرتے رہے۔آپ کے سینے میں دو گولیاں لگی تھیں جس کی وجہ سے آپ کی شہادت ہوگئی۔اس سانحہ میں آپ کا بیٹا اللہ کے فضل سے محفوظ رہا۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ شہادت سے ایک روز قبل مؤرخہ 27 مئی کی رات ایم ٹی اے پر عہد نشر ہورہا تھا۔( وہ عہد جو خلافت کا میں نے خلافت جوبلی پر دہرایا تھا ، انہوں نے اونچی آواز میں یہ عہد دوہرایا اور یہ ارادہ کیا کہ جمعہ کے دن خطبہ کے بعد پوری جماعت کے ساتھ یہ عہد دہرائیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔اہلیہ نے مزید بتایا کہ آپ بہت ہی نڈر تھے۔جب جماعت کے خلاف آرڈینینس آیا تو اس کے کچھ عرصہ بعد اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ سفر پر جارہے تھے قمیص پر کلمہ طیبہ کا بیج لگا ہوا تھا۔ان کی ہمشیرہ ڈر رہی تھیں اور احتیاط کے لئے ان سے کہا۔لیکن انہوں نے جواب دیا کہ تمہارا ایمان اتنا کمزور ہے۔سٹیشن پر اترنے کے بعد وہاں موجود پولیس اہلکار سے جا کر سلام کیا اور اپنی ہمشیرہ سے کہا دیکھو میں تو ان سے سلام کر کے آیا ہوں۔آپ کو خدا تعالیٰ پر بہت ہی تو کل تھا۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ تنزانیہ میں بھی خدمت کے دوران ان کی مخالفت ہوئی اور اس دوران اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نشان بھی دیکھے۔1999ء میں معاندِ احمدیت شیخ سعیدی نے مربی صاحب پر ایک الزام لگایا کہ انہوں نے کچھ غیر قانونی بندوں کو اپنے مشن ہاؤس میں پناہ دے رکھی ہے۔پولیس مشن ہاؤس آ گئی اور تلاشی کے بعد مربی صاحب کو تھانہ لے گئی۔تنزانیہ کا یہ قصہ ہے۔مربی صاحب نے وہاں پہنچ کر اپنا اور جماعت کا تعارف کروایا تو پولیس والوں نے معذرت کرتے ہوئے آپ کو چھوڑ 166