شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 162

ہیں۔والدہ محترمہ کو تسلی دی، پھر اس کے بعد دوبارہ رابطہ نہ ہو سکا۔اس دوران دہشتگر دوں نے جب گرنیڈ پھینکے اس کے شیل لگنے سے زخمی ہوئے۔جب غلط افواہ پھیلی کہ دہشتگرد مارے گئے ہیں اور باہر آ جائیں تو باہر نکلنے پر دوبارہ گرنیڈ کے ٹکڑے لگنے سے شہید ہو گئے۔ربوہ میں تدفین ہوئی ہے۔تدفین سے قبل ان کے چچانے اپنے گھر ان کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں بہت سے غیر از جماعت لوگوں نے شرکت کی۔شہید مرحوم کی والدہ نے شہادت سے ایک ماہ قبل خواب میں دیکھا کہ ان کا بیٹا شہید ہو گیا ہے اور اس کی میت کو صحن میں رکھا گیا ہے اور میں بیٹے کے منہ پر پیار سے ہاتھ پھیرتی ہوں اور پوچھتی ہوں کہ کیا ہوا؟ اس خواب سے گھبرا کر اٹھ جاتی ہوں اور صدقہ دیتی ہوں۔شہادت کے بعد اسی جگہ پر جنازہ لا کر رکھا گیا جہاں خواب میں دیکھا تھا۔شہادت سے چند دن پہلے شہید نے خود بھی ایک خواب دیکھا اور ہڑ بڑا کر اٹھ گئے۔والدہ کو صرف اتنا بتایا کہ بہت بُرا خواب ہے۔پھر صدقہ بھی دیا۔شہید مرحوم بہت ہی ایماندار اور نیک فطرت انسان تھے۔دوسروں سے ہمدردی اور محبت سے پیش آتے تھے۔والدین کی خدمت بڑی توجہ سے کیا کرتے تھے۔ان کے چچا نے مجھے بتایا کہ کام سے گھر آتے تھے تو والدین کو سلام کرتے تھے پھر بیوی بچوں کے پاس اپنے گھر جاتے تھے۔اور روزانہ رات کو اپنے والد کے پاؤں دبا کے سویا کرتے تھے۔انہوں نے والد والدہ کی کافی خدمت کی خدمت کا حق ادا کیا۔ڈیڑھ سال ہوا ان کی شادی کو ، ان کی ایک چار ماہ کی وقف نو کی بچی ہے۔اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے۔مکرم منور احمد قیصر صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم منور احمد قیصر صاحب شہید ابن مکرم میاں عبدالرحمن صاحب کا۔شہید مرحوم کے خاندان کا تعلق قادیان سے تھا، قادیان سے پاکستان بننے کے بعد گوجرہ منتقل ہوئے۔اس کے بعد لاہور شفٹ ہو گئے۔ان کے خاندان میں سب سے پہلے حضرت عبدالعزیز صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو آڑھتی تھے انہوں نے بیعت کی تھی۔وہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ 162