شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 147
خواب میں دیکھا کہ ہرے بھرے گراؤنڈ میں ٹہل رہے ہیں۔ایک ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ہے اور دوسرے ہاتھ میں سیب ہے جو کھا رہے ہیں۔بروز جمعہ شہید مرحوم نے نماز سینٹر جا کر با جماعت تہجد پڑھائی اور رو رو کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں۔پھر اس کے بعد نماز فجر پڑھائی تو آخری سجدہ بہت لمبا کیا۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ وقف عارضی کا بہت شوق تھا۔وقف نو کی کلاسز بہت دلجمعی سے لیتے تھے۔فرداً فرداً بچوں کو وقت دے کر جائزہ لیا کرتے تھے۔گھر میں ایک عیسائی بچی ملازمہ تھی ، اس کے تعلیمی اخراجات بھی برداشت کئے۔اس کو جہیز بنا کر دیا اور بعد میں اس کی شادی کی۔ان کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ عینی شاہد نے بتایا کہ لعل خان صاحب دہشتگردی کا واقعہ ہوا تو فوراً اپنے ہی حلقہ کے انصار بھائی کے ساتھ مسجد کی چھت پر چلے گئے۔جب اس فائر کرنے والے درندہ صفت کی بندوق کی گولیاں ختم ہو گئیں تو دوبارہ گولیاں بھر نے لگ گیا۔تب تھوڑی دیر کے لئے خاموشی ہوئی تو چھت پر جانے والے تمام افراد نے یہ سمجھا کہ حالات قابو میں آگئے ہیں۔چنانچہ وہ فور نیچے آگئے۔اتنی دیر میں اس نے اپنی بندوق پھر لوڈ کر لی۔خان صاحب اپنے ہاتھ اپنے ساتھیوں سے چھڑا کر بھاگ کر ہال کے پچھلے دروازے کو بند کر کے دروازے کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے اور باقی نمازیوں سے کہنے لگے کہ آپ درود شریف کا ورد کرتے ہوئے جلدی جلدی محفوظ جگہوں پر چلے جائیں۔تقریباً پونے دو بجے تک وہ خیریت سے تھے۔اور دہشتگرد نے جب دروازہ بند کرتے دیکھا تو فوراً بھاگ کر دروازے پر پہنچا اور دروازہ کھولنے کے لئے دھکا دینے لگا۔انہوں نے مضبوطی سے تھامے رکھا۔اور اس دوران جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اس نے نالی اندر کی اور فائر کر دیا۔اس دوران ان کے دو اور ساتھی بھی شہید ہو گئے۔ان تینوں کی شہادت سے اس عرصے میں جو دہشتگر د کے ساتھ زور آزمائی ہو رہی تھی ، ہال خالی ہو چکا تھا اور باقی نمازی محفوظ جگہوں پر چلے گئے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ میرے میاں ایک فرشتہ صفت انسان تھے، ہر وقت جماعت کی خدمت کی فکر تھی۔جوں ہی جماعت کی طرف سے کوئی اطلاع آتی تو فوراً عمل کرتے۔اپنے حلقہ 147