شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 124

مکرم میاں منیر عمر صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم میاں منیر عمر صاحب شہید ابن مکرم مولوی عبدالسلام عمر صاحب کا۔شہید مرحوم حضرت خلیفہ اُسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے تھے۔آپ 11 اکتوبر 1940 ء کو حیدر آباد دکن میں اپنے نانا حضرت مولوی میر محمد سعید صاحب رضی اللہ عنہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔آپ کے نانا حضرت میر محمد سعید صاحب رضی اللہ عنہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لینے کی اجازت دی تھی۔آپ کے نانا کی وجہ سے حیدر آباد دکن میں کافی لوگ جو آپ کے مرید تھے احمدی ہو گئے۔بی اے تک تعلیم حاصل کی اور 1962ء میں لاہور شفٹ ہو گئے۔بوقت شہادت ان کی عمر 70 سال تھی۔بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے ہر جمعہ قریباً 12 بجے گھر سے نکلتے تھے۔وقوعہ کے روز ناسازی طبیعت کے باعث قریباً ایک بجے ماڈل ٹاؤن بیت النور میں پہنچے۔مسجد کے صحن میں جنرل ناصر صاحب کے ساتھ کرسی پر بیٹھے تھے۔حملے کے دوران موصوف ہال کے اندر داخل ہو کر پہلی صف میں بیٹھ گئے۔اس دوران دروازہ بند کرنے کی کوشش کے دوران دہشتگرد نے بندوق کی نالی دروازے میں پھنسالی اور فائرنگ کرتا رہا۔پہلی گولی آپ کے سر میں لگی جس سے موقع پر ہی شہادت ہوگئی۔قریباً دس سال قبل آپ نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر کے ساتھ ایک قبر تیار کی گئی ہے، پوچھنے پر بتایا کہ یہ آپ کی قبر ہے۔شہادت کے بعد یہ تعبیر بھی سمجھ میں آئی کہ وہ واقعہ میں آپ کی قبر تھی کیونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل میں سے تھے اور شہادت بھی دونوں کی قدر مشترک ہے۔شہادت کے بعد ان کی بیٹی نے خواب میں دیکھا کہ والد صاحب شہید خواب میں آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرا کمرہ (جو گھر کا کمرہ تھا) سیٹ کر دو تو خادم نے ٹھیک کر دیا۔اور کہتی ہیں کہ کچھ دیر بعد کچھ مہمان آئے اور انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ہم نے کمرہ دیکھنا ہے۔124