شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 117

ہے۔مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔حلقے کی مسجد کی ضروریات کو پورا کرنے میں نمایاں خدمت کی توفیق ملی۔جماعتی ضرورت کے لئے اگر کبھی موٹر سائیکل ان سے مانگا جاتا تو پیش کر دیتے اور خو در کشہ پر چلے آتے۔خدمت خلق نہایت مستقل مزاجی سے کرتے تھے۔یہ خاندان بھی ، ان کے باقی افراد بھی حسب توفیق مالی قربانیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔مکرم عامرلطیف پراچہ صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم عامرلطیف پراچہ صاحب شہید ابن مکرم عبداللطیف پراچہ صاحب کا۔موصوف شہید کے والد ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔اور والد صاحب ضلع سرگودھا کی عاملہ کے فعال رکن تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ جب جابہ تشریف لے جاتے تو راستے میں اکثر اوقات شہید مرحوم کے والد مکرم عبد اللطیف صاحب کے گھر ضرور قیام کرتے تھے۔شہید کے والد کے نانا مکرم بابو محمد امین صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الاول" کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔شہید نے ابتدائی تعلیم سرگودھا سے حاصل کی اور ایم بی اے لا ہور سے کیا۔جماعتی چندہ جات اور صدقات با قاعدگی سے دیتے تھے۔بزرگان کی خدمت کرتے تھے۔سابق امیر ضلع سرگودھا مرزا عبدالحق صاحب کے ساتھ کام کرتے رہے۔سانحہ کے دوران بھائی کو فون کیا کہ میرے اردگر دشہداء کی نعشیں پڑی ہیں۔جب آ کے دیکھا گیا تو ان کے چہرے پر گن کے بٹ کے کندے کے نشان بھی تھے۔شاید کسی دہشتگرد سے بھتم گھتا ہوئے اور اس وقت اس نے مارا۔یا یہ دیکھنے کے لئے کہ شہادت ہوئی ہے کہ نہیں ، بعض لوگوں کو ویسے بھی گن سے مار کے دیکھتے رہے ہیں۔اسی طرح ایک گرنیڈ بھی ہاتھ پر لگا ہوا تھا۔اس کے زخم تھے۔دارالذکر میں باہر سیڑھیوں کے نیچے بیٹھے تھے۔وہیں پر شہید ہوئے۔ان کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ نہایت دیانت دار اور امانت دار انسان تھے۔دیانت داری کی وجہ سے جیولر ز ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ کی جیولری ان کے حوالے کر دیا کرتے تھے۔احمدیت کو کبھی نہیں چھپایا۔والد صاحب عرصہ دراز یا 117