شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 116
تھے ان کے بارے میں ناظم اطفال نے بتایا کہ میں جب بھی ان کے بچوں کو وقار عمل یا جماعتی ڈیوٹی کے لئے لے کر گیا اور جب واپس چھوڑنے آیا تو انہوں نے خصوصی طور پر میرا شکرایہ ادا کیا کہ آپ نے ہمیں یہ خدمت کا موقع دیا۔مکرم شیخ ندیم احمد طارق صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم شیخ ندیم احمد طارق صاحب شہید ابن مکرم شیخ محمد منشاء صاحب۔شہید کے آباؤ اجداد چنیوٹ کے رہنے والے تھے۔کاروبار کے سلسلے میں کلکتہ چلے گئے، 1947ء کے بعد ان کے والد صاحب کلکتہ سے ڈھا کہ چلے گئے جہاں سے 1971ء میں لاہور آ گئے۔شہید مرحوم کی اہلیہ صاحبہ کا تعلق بھی کلکتہ سے ہے۔اہلیہ کے دادا مکرم سیٹھ محمد یوسف صاحب بانی تھے جو مکرم صدیق بانی صاحب کلکتہ کے چھوٹے بھائی تھے۔شہید مرحوم نے آئی کام کرنے کے بعد سپئیر پارٹس کا کاروبار شروع کیا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 40 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔ہمیشہ دارالذکر میں ہی جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔اور میرے خطبہ جمعہ تک جو لا ئیو نشر ہوتا ہے وہیں رہتے تھے اور وہ سن کر آیا کرتے تھے۔سانحہ کے وقت یہ امیر صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔دایاں بازو بہت سوجا ہوا تھا۔باقی جسم پر کوئی زخم نہیں تھا۔غالب خیال یہی ہے کہ بازو میں گولی جو لگی ہے تو خون بہہ جانے کی وجہ سے شہید ہوئے۔بہت صلح پسند، شریف اور بے ضرر اور نرم گفتار انسان تھے۔کام پر ہوتے تو بچوں کو فون کر کے نماز کی ادائیگی کا پوچھتے۔کام پر بیٹھے ہوئے ہیں، نماز کا وقت ہو گیا تو گھر بچوں کو فون کرتے تھے کہ نماز ادا کرو۔یہ ہے ذمہ داری جو ہر باپ کو ادا کرنی چاہئے۔اسی سے دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی عادت پڑتی ہے۔نماز تہجد کا بہت خیال رکھتے تھے قریباً چار کلومیٹر دور جا کر نماز باجماعت پڑھا کرتے تھے۔یہاں یہ فاصلے اتنے نہیں لگتے کیونکہ سڑکیں بھی ہیں ، سواریاں بھی ہیں۔لیکن گودہاں سواری تو ان کے پاس تھی لیکن حالات ایسے ہیں ٹریفک ایسا ہے کہ مشکل ہو جاتی 116