شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 115 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 115

ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ شہادت سے پہلے ان کو خواب آئے تھے کہ میرے پاس وقت کم ہے اور اپنی زندگی میں مجھے کہتے تھے کہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاؤ۔اور اس کے لئے بزنس بھی تھوڑ اسا ان کے لئے establish کر دیا۔ہمیشہ تہجد پڑھنے والے اور نماز سینٹر میں فجر کی نماز اپنے والد صاحب کے ساتھ پڑھتے تھے۔ایک دن رات کو دارالذکر سے ساڑھے بارہ بجے آئے اور صبح ساڑھے تین بجے پھر اٹھ گئے۔میں نے کہا کہ کبھی آرام بھی کر لیا کریں۔تو کہنے لگے، اس دنیا کے آرام کی مجھے کوئی پرواہ نہیں، مجھے آرام کی فکر ہے جو میں نے آگے کرنا ہے۔مکرم اعجاز الحق صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم اعجاز الحق صاحب شہید ابن مکرم رحمت حق صاحب کا۔شہید مرحوم کا تعلق حضرت الہی بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھا۔آبائی وطن پٹیالہ ضلع امرتسر تھا، والد صاحب ریلوے میں ملازم تھے اور لاہور میں ہی مقیم تھے۔ہال روڈ پر الیکٹرانکس روپیئر (Repair) کا کام کرتے تھے۔ان دنوں لاہور کے ایک پرائیویٹ چینل میں بطور سیٹلائٹ ٹیکنیشن کام کر رہے تھے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 46 سال تھی۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔وقوعہ کے روز ایم ٹی اے پر جو خلافت کا عہدِ وفا نشر ہو رہا تھا تو سر پر تولیہ رکھ کر کھڑے ہو کر عہد دوہرانا شروع کر دیا۔اور اہلیہ نے بھی ان کو دیکھ کر عہد دوہرایا۔مسجد دارالذکر میں ہی نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے اور سانحہ کے روز بھی اپنے کام سے سیدھے ہی نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے دارالذکر پہنچ گئے۔باہر سیڑھیوں کے نیچے بیٹھے رہے۔دہشتگردوں کے آنے پر گھر فون کیا اور بڑے بھائی سے کہا کہ اسلحہ لے کر فوری طور پر دارالذکر پہنچ جاؤ۔اور یہ ساتھ ساتھ اپنے ٹی وی کو فون پر رپورٹنگ بھی کر رہے تھے۔اسی دوران گولیوں کی بوچھاڑ سے موقع پر ہی شہید ہوگئے۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ ہمدرد اور ملنسار انسان تھے۔سب کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔چندہ جات کی ادائیگی با قاعدہ تھی اور ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔حلقہ کے ناظم اطفال 115