شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 110
پوتے کو اپنے ساتھ بٹھا لیں۔پہلے یہ ہمیشہ ساتھ بٹھایا کرتے تھے۔انہوں نے کہا نہیں اس کو اپنے ساتھ لے کے جاؤ۔بیٹے نے کہا کہ میری ڈیوٹی ہے۔تو کہا کہ نہیں بالکل نہیں۔چنانچہ بیٹے نے اپنے بیٹے کو یعنی ان کے پوتے کو کسی اور کے پاس چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے بیٹے اور پوتے دونوں کو محفوظ رکھا۔شہید مسجد دارالذکر کے مین ہال میں محراب کے اندر پہلی صف میں کرسی پر بیٹھے تھے۔ان کے دائیں طرف سے شدید فائرنگ شروع ہوئی جس سے ان کے پیٹ میں گولیاں لگیں۔کسی نے بتایا کہ امیر صاحب ضلع نے ان کو کہا کہ چوہدری صاحب آپ باہر نکل جائیں تو انہوں نے جواباً کہا کہ میں نے تو شہادت کی دعا مانگی ہے۔چنانچہ امیر صاحب کے اور ان کے دونوں کے جسم ایک ہی جگہ پر پڑے ہوئے ملے۔مولوی بشیر الدین صاحب نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے سفید رنگ کی بہت بڑی گاڑی آئی ہے، اس میں سے آواز آئی کہ میں آپ کو لینے آیا ہوں۔رات کو عشاء کی نماز پڑھ کر جلدی سو جاتے تھے۔اور رات ایک بجے اٹھ جاتے تھے پھر نماز تہجد اور دعاؤں میں مشغول رہنا ان کا کام تھا۔ہر ایک کو دعا کے لئے کہتے کہ خاتمہ بالخیر کی دعا کرو۔خلافت سے محبت انتہا کی تھی۔جو جماعت کے خدمت گزار تھے ان کی بھی بڑی تعریف کیا کرتے تھے کہ کتنی پیاری جماعت ہے کہ لوگ اپنا کام ختم کر کے جماعت کے کاموں میں جت جاتے ہیں۔لوگوں میں بیٹھتے تو تبلیغ کرتے مجلس برخاست ہوتی تو کہتے کہ اگر کسی کو برا لگا ہے تو معاف فرمائیں۔یکصد یتامیٰ میں مستقل ایک یتیم کا خرچ دیتے تھے۔ربوہ سے ایک ملازم آیا، وہ ساتویں جماعت تک پڑھا ہوا تھا گھر میں کہا کہ اسے بھی پڑھاؤ اور جو کچھ پڑھائی کے لئے اپنے بچوں کو چیزیں دیتی ہو وہی اس کو بھی دو۔خدا کے فضل سے موصی تھے۔ان کے بیٹے کا بیان ہے اور کسی اور نے بھی یہ لکھا ہے کہ بچپن سے ہی ایک خواہش کا اظہار فرماتے تھے کہ خدا زندگی میں وصیت کی ادائیگی کی تو فیق عطا فرمائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے شہادت سے تین سال پہلے ان کو اپنی جائیداد پر وصیت کی ادائیگی کی توفیق عطا فرما دی اور شہادت سے چند روز پہلے اپنے سارے چندے ادا کر دیئے۔110