شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 98
مکرم منور احمد صاحب شہید مکرم منور احمد صاحب شہید ابن مکرم صو بیدار منیر احمد صاحب۔اپنے بھائی کی طرح ان کا تعلق بھی فیصل آباد سے تھا۔پیدائشی احمدی تھے، لیکن کچھ عرصہ شیعہ عقائد کی طرف مائل رہے، کیونکہ انہوں نے اپنی نانی جو ذاکرہ تھیں، ان کے پاس پرورش پائی تھی۔پھر یہ ذاکر اور پیر بن گئے تھے۔اور اسی دوران انہوں نے خواب میں حضرت امام حسین اور حضرت علی کو دیکھا۔وہ آئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے بارے میں ان کو بتایا تو دوبارہ انہوں نے بیعت کر لی اور بڑے فعال کارکن تھے۔فطرت نیک تھی۔اللہ تعالیٰ نے خود ان کی رہنمائی فرما دی۔احمدیت کا بہت علم تھا، بہت تبلیغ کرتے تھے، انہوں نے بہت ساری بیعتیں بھی کروائیں۔دعوت الی اللہ کے شیدائی تھے۔بڑے بڑے مولویوں کولا جواب کر دیتے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 30 سال تھی۔بطور نائب ناظم اصلاح وارشاد خدمت کی توفیق ملی۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔دارالذکر میں نماز جمعہ کے وقت حملے کے وقت یہ بیرونی گیٹ سے فائرنگ کی آواز آئی۔تو یہ نہایت پھرتی سے کرالنگ (Crawling) کرتے ہوئے باہر نکلے اور جلدی سے واپس آ کر مین ہال کی طرف جانے والے اندرونی گیٹ کو بند کیا۔اور ہال کے مین گیٹ میں دروازے بند کروائے۔حملے کے دوران مسلسل گھر فون سے رابطہ رکھا اور اپنے چچا سے دعا کے لئے کہتے رہے اور کہا کہ میں اوپر جا رہا ہوں میرے لئے دعا کریں۔ایک عینی شاہد دوست نے بتایا کہ حملہ کے شروع میں ہی ہال کے اندر آئے اور زور سے آوازیں دینی شروع کر دیں کہ اگر کسی کے پاس اسلحہ ہے تو مجھے دو کیونکہ دہشتگر داندر آ گئے ہیں۔(وہاں لوگ مسجد میں نمازیں پڑھنے آئے تھے اسلحہ لے کر تو نہیں آئے تھے ) اس کے بعد جب اندر فائرنگ سے لوگ زخمی ہوئے اور جب دہشت گرد ہال سے اوپر جاتے تو یہ موقع پا کر بڑی پھرتی سے کرالنگ کرتے ہوئے زخمی بزرگان کو پانی پلاتے رہے۔پولیس اور انتظامیہ یہی۔98