شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 85

جمعرات کو ہی کپڑے استری کروا کر لٹکوا دیا کرتے تھے اور بارہ بجے مسجد چلے جاتے تھے۔عموماً ہال کے اندر بائیں طرف کرسیوں پر بیٹھتے تھے۔وقوعہ کے روز ایک نوجوان نے ان کو دوسری اور تیسری صف کے درمیان خون میں لت پت دیکھا۔انہوں نے اس نوجوان کو آواز دی اور کہا کہ مجھے گولیاں لگی ہیں میرے پیٹ پر کپڑا باندھ دو۔اس کے بعد انہوں نے دیگر زخمیوں کو پانی پلانے کی ہدایت کی۔خود زخمی تھے، اس کے بعد انہوں نے نوجوان کو کہا کہ زخمیوں کو پانی پلاؤ۔ساتھ ساتھ دیگر احباب کو بچاؤ کی ہدایات دیتے رہے کہ یہ شعبہ کے ماہر تھے۔ایک گولی ان کی ہتھیلی پر بھی لگی ہوئی تھی۔زخمی حالت میں ان کو جناح ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں رات آٹھ بجے کے قریب ان کی شہادت ہوئی۔شہید کی فیملی میں ایک خاتون نے دو دن قبل خواب میں دیکھا کہ لاہور میں فائرنگ ہو رہی ہے۔اس طرح کی خوا ہیں اکثر احمدیوں کو پاکستان میں بھی اور باہر کے ملکوں میں بھی آئی ہیں جو اس واقعہ کی نشاندہی کرتی تھیں کسی سے بغض نہیں رکھتے تھے، صحت اچھی تھی۔اور بچوں کے ساتھ بہت پیار کا تعلق تھا۔نماز با جماعت اور قرآن کریم کی تلاوت کے شوقین۔کبڈی اور فٹبال کے بڑے اچھے کھلاڑی رہے۔خلافت سے عشق تھا۔ان کے بارے میں ان کی بیٹی نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابا جی ہال میں کرسیوں پر بیٹھے تھے جہاں مربی صاحب خطبہ دے رہے تھے۔خطبہ ابھی شروع ہوا ہی تھا کہ باہر سے گولیوں کی آواز میں آئیں اور پھر یہ آواز میں لمحہ بہ لحد قریب ہوتی گئیں۔اس دوران مربی صاحب لوگوں کو درود شریف پڑھنے کی ہدایت دیتے رہے اور کہا کہ خطبہ جاری رہے گا۔کہتی ہیں کہ میرے اباجی کے ساتھ چوہدری نسیم احمد صاحب صدر کینال ویو اور ان کے بزرگ والد بیٹھے تھے۔وہ اپنے عمر رسیدہ والد کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے Basement کی طرف لے گئے۔اور میرے والد صاحب سے بھی کہا کہ بزرگواٹھو! لیکن آپ نہ اٹھے۔بقول وسیم صاحب کے وہ ایسے بیٹھے تھے جیسے ان کا اندر کا فوجی جاگ گیا ہو اور وہ حالات کا بغور مطالعہ کر رہے ہوں۔اسی بھیڑ چال میں چند اور لوگوں نے بھی کہا۔ہم نے ان سے کہا کہ اٹھ جائیں لیکن وہ نہیں اٹھے۔اسی دوران اس 85